Jasarat News:
2026-07-24@06:13:25 GMT

سندھ پبلک سروس کمیشن کرپشن کا گڑھ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251023-03-4
عبدالتواب شیخ
سندھ پبلک سروس کمیشن جو اعلیٰ سرکاری ملازمین کا چنائو کرتا ہے اس نے 20024-25 کو اخبارات میں گزٹڈ آسامیوں کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا جس پر سکرنڈ کے اویس دانش خانزادہ نے حساب کی لیکچرر شپ کے لیے درخواست جمع کرائی، 13-2-2025 کو تحریری امتحان ہوا جس کا نتیجہ دوسرے دن آیا تو اویس دانش 65 فی صد نمبر لے کر کامیاب قرار پایا 12- 5-2025 کو اس کا کراچی میں انٹرویو ہوا، جس کے بعد کامیاب امیدواروں کا نتیجہ 18-6-2025 کو شائع ہوا تو اس کا نام کامیاب امیدواروں میں نہ تھا جب کہ اس کے بقول اس کے تمام جوابات درست تھے اس نے 161 دفعہ کے تحت 24-6-25 کو سندھ پبلک سروس کمیشن میں درخواست دی کہ نمبر بتائے اور انٹرویو دکھایا جائے اس درخواست پر 15 دن میں پبلک سروس کمیشن کو عمل کرنا ہوتا ہے مگر اس نے اس درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی، جواب نہ ملنے پر اویس دانش نے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں اپیل نمبر 1392 دائر کی جس پر عدالت نے پبلک سروس کمیشن کو 15 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا مگر اس کی بھی تعمیل نہ ہوئی تو درخواست گزار نے توہین عدالت کی درخواست ہائی کورٹ حیدر آباد میں دی کہ رزلٹ اور ویڈیو انٹرویو عدالت میں آکر دکھایا جائے عدالت نے 16 اکتوبر کو چیئرمین اور سیکرٹری کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم جاری کیا تو سیکرٹری حاضر ہوئے اور چیئرمین کی علالت کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا۔ اویس دانش خانزادہ کا کہنا ہے کہ پہلے دیہی لڑکوں کے لیے پاسنگ مارکس 50 اور لڑکیوں کے 42 تھے پھر یکایک تبدیل کر کے لڑکوں کے لیے 56 اور لڑکیوں کے لیے 35 کردیے گئے اور یوں ہی اشفاق سیٹ نمبر 270025 اور زینب سیٹ نمبر282777 جو شہری درخواست گزار تھے تبدیل کر کے انہیں دیہی رزلٹ میں کرکے اور دنیا گل کے 33 نمبر کو بڑھا 35 کرکے پاس کردیا گیا خانزادہ اویس دانش کے مقدمہ کی پیروی سینئر وکیل جواد قریشی کر رہے ہیں۔ یہ مقدمہ جو اب عدالت کے سپرد ہے اس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی نااہلی کا پہلو نمایاں ہے اور اس کی بھرتیوں پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں انکوائری ہوتی رہی ہیں مگر مبینہ طور پر یہ بااثر سیاسی افراد اعلیٰ بیوروکریسی اور مال کی منڈی بنی ہوئی ہے سو سوائے چند تبدیلوں کے کچھ نہیں بگڑتا اس کے متعلق یہ جملہ مشہور ہے پیسہ پھینک تماشا دیکھ اب کیا ہوتا ہے عدالت اٹھائے ہوئے سوالات پر کیا فیصلہ کرتی ہے بھلا جو پبلک سروس کمیشن کرپشن کے موذی مرض میں مبتلا بتایا جائے اس کی نظر انتخاب میرٹ کے بجائے کوئی اور ہو تو پھر ملک اور قوم کا بیڑہ غرق ہی ہوگا۔ کہتے ہیں کہ دلالوں کا گروہ لاکھوں کروڑوں میں نوکری کی ضمانت پتا نہیں کیسے دیتا ہے؟؟

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید ذین شاہ نے سکرنڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کرپشن کاگڑھ بن گیا ہے اس بورڈ کے چیئرمین اور ارکان کا سلیکشن ہی صحیح نہیں اس کا حال برا ہے ہم نے حیدرآباد اور کراچی میں اس کی زبوں حالی پر کانفرنسیں کرائیں جس میں اہل نظر دانشور شریک ہوئے اور احوال اور اصلاح پر روشنی ڈالی اور تجاویز دیں مگر کوشنوائی نہ ہوئی اس وجہ سے نوجوان نسل تعلیم کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ پبلک سروس کمیشن اویس دانش کے لیے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن