ایک حقیقت سو افسانے(حصہ اول)
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
گزشتہ ہفتے کئی دوستوں نے پاکستان کے مشہور کالم نگار اور اینکر جاوید چوہدری صاحب کے کالم ’’یونیورسٹی آف نبراسکا‘‘ میں بیان کیے گئے مندرجات پر اپنے تحفظات سے بھرپور وائس کلپس اور تحریریں وٹس ایپ کیے اور کہا کہ ہمارے جذبات ان تک پہنچائیں۔
ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے عبدالحفیظ صاحب جو تبدیلی کے ان قاریوں میں سے ہیں جن کی طرف سے کبھی تحسین اور کبھی تنقید کے پیغامات ملتے رہتے ہیں، انھوں نے بتایا ’’وہ میرے اور جاوید چوہدری صاحب کے کالمز کی ہارڈ کاپیوں کو باقاعدہ فائلز میں لگاتے ہیں‘‘۔ لیکن آج میں چوہدری صاحب کے پرانے کالمز کی فائل ڈیلیٹ کر دوں گا۔ ان کے کہنے کے مطابق وہ ان کو فون کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا چکے ہیں، میں نے بھی کالم پڑھنا شروع کیا تو بات سمجھ آگئی ۔
میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ ہر پختون افعان ہوتا ہے، مگر ہر افعانی (افعانستان کا باشندہ) پختون نہیں ہوتا اور ہر پختون کا افعانستان کا شہری ہونا لازم نہیں۔ اس لیے اس مغالطے سے بچنے کے لیے لفظ افغان کو پختون سے بدل رہا ہوں، ایسا نہ ہو کل حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والا کوئی محقق مجھے بھی افعانی یا غدار ڈیکلیئر کردے۔ کالم کی چند سطور پڑھنے سے اندازہ ہوا کہ اگر پورا افسانہ پڑھا تو میری کیفیت احتجاج کرنے والوں سے بدتر ہوگی۔
اس لیے پڑھنا چھوڑ دیا لیکن دماغ پڑھنے پر بضد تھا لہٰذا دوبارہ پڑھنا شروع کیا اور بہت مشکل سے پانچ قسطوں میں پورا پڑھ لیا۔ مگر دل اداس اور ذہن پریشان تھا، یقین نہیں آرہا تھا کہ میرے پسندیدہ کالم نگار، اصلاح اور کامیابی کے گر سکھانے والے موٹیویشنل اسپیکر کیسے پختونوں اور برصغیر کے مسلمانوں کے محسنوں کا اس انداز میں ذکر کرسکتے ہیں؟ درود شریف سے بات شروع کرنے والا ،مذہبی رجحان رکھنے والا بندہ کیسے جہاد اور مدارس کے بارے میں مغرب کے منفی پروپیگنڈا کا شکار ہوسکتا ہے ۔ مگر کیا کرتا، ان کا لکھا میرے سامنے پڑا تھا۔
دو دہائیوں سے ان کے کالمز پڑھتا ہوں، مجھے ان کے وہ کالم بہت اچھے لگتے ہیں جو افسانوی انداز میں اصلاح معاشرہ کے لیے لکھے گئے ہوتے ہیں اس لیے میں ان کو کالم نگار کے ساتھ ایک اچھا افسانہ نگار بھی سمجھتا ہوں مگر ان کے من گھڑت افسانے کو پڑھ کر حیران و پریشان ہوا کہ آخر ہو کیا گیا ہے چوہدری صاحب جیسے نفیس و نستعلیق بندے کو؟ ان سے یہ توقع بالکل نہیں تھی، پورے کا پورا کالم تعصب بھرا افسانہ ہے جس کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ حقیقت ہمیشہ ایک ہوتی ہے جب کہ افسانہ ہر بندے کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔
میں حقیقت بیان کرنے کی نیت سے سے کالم لکھنے کی جسارت کر رہا ہو ں، پختونوں اور نسل در نسل پاکستانی مسلمانوں کے ان دلوں پر مرہم رکھنے کی کوشش کروں جو مذکورہ کالم کے نشتر سے زخمی ہوئے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پختون بحیثیت قوم فطری طور پر بہادر، نڈر اور اپنی عزت کے لیے سر داؤ پر لگادینے والی قوم ہے، وہ دشمن کو نیست و نابود کرنے کی نیت سے لڑتا ہے۔
اگر کوئی اس وصف کو بھی ہماری برائیوں میں سے ایک برائی سمجھتے ہیں تو ان کی مرضی، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں فخر ہے کہ جب بھی برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو رنجیت سنگھ کے ’’ حواری اور سرنڈر موذی‘‘ کے ’’ پیش رو‘‘ حکمران تنگ کرتے تھے تو وہ ہمارے بہادر آباؤاجداد کو مدد کے لیے بلاتے تھے اور وہ مردانہ وار اپنے مسلمان بھائیوں کے دفاع اور ان کے دشمنوں کو سبق سکھانے کے لیے روانہ ہوتے تھے، راستے میں رنجیت سنگھ کے لٹیرے حواری اور مسلمان دشمن جہاں بھی ملتے تھے، ان کو پھینٹا لگاتے آگے بڑھتے تھے، میدان جنگ میں دشمن کو نیست و نابود اور فتح کے جھنڈے گاڑ کر جاتے تھے۔
واپسی پر بھی مسلمانوں کے دشمن جہاں نظر آتے تھے ، ان کو پھینٹا لگاتے تھے۔ اس پھینٹا لگانے پر رنجیت سنگھ کو ہیرو سمجھنے والوں کا گلہ بنتا ہے مگر کسی پنجابی مسلمان کا بالکل نہیں۔ ہمیں اپنی قبائلی رسم و رواج اور روایات پر فخر ہے اور اس خطے کے اکثر ہوش مند و غیرت مند اقوام اسے قابل تقلید سمجھتے ہیں اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کوئی اسے ہماری برائیوں میں سے ایک برائی سمجھ کر اپنی نفرت کا اظہار کرے۔ ہمیں اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کو ہمارے آباؤاجداد اور فاتح پانی پت احمد شاہ ابدالی، غزنوی، غوری اور بابر سمیت پوری پختون قوم میں صرف دو خوبیاں اور باقی سب خامیاں نظر آئیں۔
ہمیں اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لیے کسی سند کی ضرورت نہیں، ہم جو ہیں وہ ہیں، اپنی غلطی کا احساس ہوگا تو کسی نفرت کرنے والے کو تکلیف دیے بغیر اپنی اصلاح کی کوشش کریںگے یا محبت کرنے والوں سے راہنمائی اور مفت مشورے لینے کی کوشش کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ وہ پوری زندگی میں ایک ہفتہ مسلسل پختون معاشرے میں نہیں رہے ہوںگے مگر پختون معاشرے کے اقدار و روایات کا اس انداز میں تجزیہ کر گئے جیسے نسل در نسل پختون معاشرے میں رہے ہوں۔
میں پڑھا لاہور میں اور گزشتہ دو دہائیوں سے لاہور میں رہائش پذیر ہوں، شکر الحمدللہ میں نے اپنے تمام پنجابی دوستوں کو پختونوں سے زیادہ پختون دوست، پختون کلچر کے معترف اور دلدادہ پایا، اس لیے میں بھی ان کے سحر میں مبتلا ہوں، پتہ نہیں وہ پنجاب کہاں اور میری نظروں سے اوجھل ہے جہاں پختونوں سے نفرت کی جاتی ہے؟ میرا یقین کامل ہے کہ اگر پنجاب کے ہر مسلمان سے پوچھا جائے کہ وہ پختونوں سے نفرت کرتے ہیں یا محبت، انشاء اللہ ہر پنجابی آپ کو پختونوں سے محبت کرنے والا ملے گا۔ ہاں اگر موقع ملا تو مجھ سمیت پختون قوم کا ہر فرد احمد شاہ ابدالی اور کیپٹن کرنل شیر خان (نشان حیدر) کی طرح سرنڈر موذی اور ان کے بھارتی فوجیوں کو پھینٹا لگا کر اپنے آباؤ اجداد کی روایت کو تازہ کریںگے، انشاء اللہ۔
کالم میں بیان کردہ ہر افسانے کی حقیقت بیان کروں گا مگر سردست ان کی بیان کردہ دو برائیوں جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کردیا ہے، اس پر پہلے بات کرونگا، وہ فرماتے ہیں، ’’ افغانوں کے ڈی این اے میں ملک سے محبت اور خواتین کے احترام کی اہمیت نہیں‘‘ پتہ نہیں وہ ملک سے محبت کو کس آلے اور معیار سے ناپ رہے ہیں؟
غدار ہر قوم میں ہوتے ہیں مگر پختون من حیث القوم محب وطن ہوتے ہیں، اس لیے ہمیں کسی کی طرف سے حب الوطنی کی سند کی کوئی ضرورت نہیں۔ آخر میں ایک سوال کروںگا کہ کیا ان حالات میں نفرتوں کو ہوا دینے والا افسانہ لکھنا دانشمندی ہے یا ضروری تھا؟ (جاری ہے)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چوہدری صاحب پختونوں سے اس لیے کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔