Express News:
2026-07-24@11:34:22 GMT

آزادی کے بعد

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

پاکستان کے لیے دو راستے ہیں، ایک وہ راستہ جو اس ملک کا تاریخی پس ِ منظر ہے یعنی آئین سے محروم رکھنا، مسلسل جمہوریت سے انحراف،پھر ان جمہوریت مخالف قوتوں کا افغانستان سے گٹھ جوڑ۔ دوسرا راستہ پاکستان کے پاس یہ ہے کہ تاریخ کی صحیح سمت کا تعین کیا جائے،غیر ملکی حملہ آوروں کی تاریخ کوہیرو نہیںبلکہ غاصب قرار دیا جائے،مذہب کا استعمال سیاست میں نہ کیا جائے، محمدعلی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کو آئین کا حصہ بنایا جائے، ان ’’شرفاء‘‘ سے نجات پائی جائے جو منشیات، اسلحے کی خریدو فروخت، قبضہ ، بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔

تقسیم ہند کے بعددراصل ہم افغانستان کے مسائل میں ملوث رہے،ان مسائل سے نکل ہی نہ سکے۔حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے چاروں صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور یہ بھی اتفاق ہے کہ سوائے سکندر ا عظم کے تمام حملہ آور ترک یا ایرانی مسلمان تھے۔مسلمان ہونا ان کی پہلی نہیں بلکہ ثانوی حیثیت تھی اور حملہ آور وہ پہلے تھے، ان کے حملے لوٹ مار کے سوا کچھ بھی نہیں تھے۔ان حملوں کی وجہ سے ہماری ثقافت پرترک اور ایرانی اثرات کا ہونا لازمی تھا۔ نادر شاہ افشار کے زمانے میں موجودہ افغانستان خراسان کہلاتا تھا، یہ ایرا ن کی نادر شاہی سلطنت کا حصہ تھا ۔

لگ بھگ دو ہزار سال قبل افغانستان میں شامل تمام علاقوں پر اشوکا دی گریٹ نے حکومت کی تھی۔وہاں بدھ مذہب رائج تھا جس کی عکاسی کرتے ہیں، بامیان کے طویل قامت بدھا کے مجسّمے جن کو طالبان کے دور میں مسمار کر دیا گیاتھا۔ بعد میں کشان یا کسانا سلطنت بھی یہاں پروان چڑھی جس کا عظیم بادشاہ کنشک یا کنشکا دی گریٹ تھا۔ ساتویں صدی میں ایران اسلام کے زیر نگیں آیا۔ یوں خراسان یعنی موجودہ افغانستان بھی عربوں کے زیرتسلط آگیا اور بدھ مذہب کو خیر باد کہا گیا۔دسویں صدی سے لگ بھگ دو سو سال تک افغانستان میں غزنوی ترکوں کی حکمرانی رہی۔1220 میں سینٹرل ایشیاء پر چنگیز کی سربراہی میں منگولوں نے حملہ کیا جس نے افغانستان کو مسمارکردیا۔

ہندوستان میں التمش کا دورِ حکومت تھا۔منگولوں کو یہاں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ یہاں قبضہ نہ کر سکے۔ پانچ سو سال بعد نادر شاہ ایک بہت بڑا لٹیرا جس نے دلی پر حملہ کیا۔چند ہی دنوں میں نادر شاہ نے لگ بھگ چالیس ہزار لوگوں کو قتل کیا۔دلی کی بیش بہا دولت لوٹی اور چلا گیا۔پانی پت ،پہلا جنگی میدان جہاں پہلا معرکہ بابرکی فوج اور دہلی کے حاکم ابراہیم لودھی کے درمیان ہوا۔ابراہیم لودھی اس جنگ میں مارے گئے۔مغل ادوار میں ہندوستان اور افغانستان ایک ہی ملک تھا۔

1750 میں ہندوستانی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جب نئے حملہ آور سمندری راستوں سے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ایسٹ انڈیا کمپنی بنائی گئی۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے انگریز نے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی اور 1757 میںپلاسی کے میدان میں بنگال پر قبضہ کرنے کے لیے جنگ لڑی گئی۔پھر1799 سرنگا پٹنم کے میدانوں میں ٹیپو سلطان کو شکست دی گئی۔

ٹیپو سلطان نے جنگ کامیدان نہیں چھوڑا بلکہ شہادت کو ترجیح دی۔پھر چار سال بعد1803 مرہٹوں کو فرنگیوں نے شکست دی اور اس طرح دہلی کے تخت پر قبضہ جمایا جہاں مغل بادشاہت بظاہر لیکن وظیفے پر بر قرار رہی اور حقیقی حکومت انگریز کی تھی۔انگریز افغانستان پر قبضہ نہ کر سکے۔افغانستان کا وہ حصہ جو رنجیت سنگھ کے قبضے میں تھا، وہ ایک معاہدے کے تحت انگریز کی دسترس میں تھا۔ہندوستان کے اس بارڈر سے انگریز ہمیشہ ڈرا رہا ان کی تمام دفاعی حکمت عملی اسی طرف مرکوز رہی۔

1947 میں ہندوستان نے نہ صرف انگریزوں سے نجات پائی بلکہ افغانستان سے بھی،مگر ہمارے ساتھ یہ ماجرہ نہ تھا۔ تقسیم کے بعد ہندوستان کا بارڈر افغانستان سے ملتا تھا۔ افغاستان کی دوسری طرف، دوسری عالمی طاقت سوویت یونین کا بارڈرتھا اور ہماری آزادی کانگریس نے نہیں بلکہ مسلم لیگ نے لی تھی جو کہ سیاسی طور پر ایک کمزور جماعت تھی۔1954 میں مسلم لیگ نے پہلے ہی ریاستی انتخابات میںمشرقی پاکستان سے بری طرح شکست کھائی۔مسلم لیگ نے نہ ہی ملک کو آئین دیا نہ ہی قومی انتخابات کروائے۔

ہندوستان نے آئین بھی بنایا اور بار بار انتخابات بھی کروائے،ان انتخابات میں جواہر لعل نہرو جیتتے رہے جب تک وہ زندہ رہے۔نہرو ، سوویت یونین کے پسندیدہ تھے اور ہم انگریز کے براہِ راست راج سے نکل کر امریکا کے زیر ِ اثر رہے۔امریکا جنرل ایوب کو لے آیا،اس ملک میں جو کمزور جمہوریت رائج تھی وہ بھی چلی گئی۔پاکستان ، سرد جنگ میں امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔سوویت یونین کو افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لانا ضروری تھا۔

سوویت یونین کے صدر خرو چیف نے جنرل ایوب کے زمانے میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کو دھمکی دی کہ پاکستا ن، پشاور کے ہوائی اڈے سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے امریکا کو نہ دے۔پھر 1973 میں افغانستان میں سردار داؤد نے ظاہر شاہ کا تختہ الٹ دیا۔ ایسا کہا جاسکتا ہے کہ نہ ہی افغانستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی مرتب کر سکتا تھا اور نہ ہی ہم۔افغانستان ایک ماڈرن ملک تھا کیونکہ ماضی میں سینٹرل ایشیاء ، سوویت یونین کا حصہ تھا اور وہاں پر عورت و مرد کے حقوق مساوی تھے۔ان کی زبان رشین اور فارسی تھی۔ان کی ثقافت یورپ کے زیر ِ اثر تھی ، لہٰذا افغانستان پر بھی وہ ہی اثرات تھے۔کابل یونیورسٹی میں وہاں کی طالبات مغربی لباس پہنتی تھیں۔

سرد جنگ کے پس منظر میں افغانستان ایک اہم ریاست بن گئی۔یہاں کے بائیں بازو کی سیاست اور ترقی پسندوں پر سوویت یونین اور افغانستان کے اثرات رہے۔اس کے برعکس دائیں بازو کی سیاست پر امریکا کے اثرات تھے۔ سردار داؤد کے خلاف سور انقلاب آیا۔نور محمد ترکئی نے اقتدار پر قبضہ کیا۔سردار داؤد مارے گئے۔اس کے بعد حفیظ اللہ امین نے نور محمد ترکئی کا قتل کروایا۔حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کیا اور پھر چند مہینوں میں وہ بھی مارا گیا، ببرک کارمل اقتدار میں آیا، سوویت یونین کو افغانستان کی داخلی جنگ میں کسی پر اعتماد نہ رہا۔ببرک کارمل نے افغانستان میں اپنی حکومت کے تحفظ کے لیے سوویت یونین سے فوجی مدد مانگ لی۔اس طرح سوویت یونین پاکستان کے بارڈر سے قریب آ گیا۔

اس وقت پاکستان امریکا کے سحر سے نکل رہا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو قیادت میں تھے،وہ ایک عوامی لیڈر تھے۔ملک کو پہلی بار آئین ملا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر دفاع کو مضبوط بنایا۔یہ بات امریکا کو پسند نہیں آئی لہٰذا انھوں نے ضیاالحق کو بھٹو صاحب کے خلاف میدان میں اتارا اور ان کو تختہ دار تک پہنچا دیا۔پاکستان میں مجاہدین کو اتارا گیا اور دوسری طاقتوں کے مابین جنگیں اس سرزمین سے لڑی گئیں۔

پاکستان میں آمریتیں لائی گئیں۔ایک ایسا ملک جو وادی مہران کی تہذیب کا تسلسل تھا ، ایسے ملک کو افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں نے کمزور بنایا۔یہاں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو پناہ دی گئی۔افغانستان دنیا کا وہ بڑا ملک تھا جہاں اوپیم پوپی کی کاشت کی جاتی تھی ۔

دنیا بھر میں اسمگلنگ کے لیے سمندر کے ذریعے راستہ بھی یہی سے تھا۔افغانستان کی جنگ میں بھاری مقدار میں اسلحہ آیا جوکہ مجاہدین کو دیا گیا۔کلاشنکوف کلچر ہمیں افغانستا ن کا تحفہ ہے۔ہمیں بڑی تعداد میں امریکا سے ڈالر ملے، امداد دی گئی۔اپنی داخلی کمزوریوں کے باعث سوویت یونین ٹکڑوں میں تقسیم ہوا اور افغانستان میں موجود اپنی فوج کے دفاعی اخراجات وہ سنبھال نہ سکا ۔ گوربا چوف کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی وہ سوویت یونین کو بچا نہ سکا۔

پاکستان میں مجاہد آئے، مدرسے بنے، اسلحہ آیا، منشیات آئی اور جب پاکستان نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو یہی مجاہدین ، پاکستان کے خلاف ہندوستان سے جا ملے۔ جغرافیائی اعتبار سے افغانستان ، سینٹرل ایشیاء کا ملک نہیں ہے، البتہ اس میں کچھ حصے وسط ایشائی اور کچھ ایرانی علاقے شامل ہیں جب کہ مشرقی وجنوبی افغانستان برصغیر پاک وہند حصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو زار شاہی روس نے بھی تمام سینٹرل ایشیاء کو فتح کیا اور کمیونسٹ دور میںان ریاستوں کو سوویت یونین بنا دیا۔افغانستان دنیا کے منظر پر ایک بلیک ہول ہے،جس نے دنیا کا امن تباہ کرنا ہے۔افغانستان پر اس وقت ہندوستان کا اثرو رسوخ زیادہ ہے۔تاریخی اعتبار سے جنگ ہی ان کا کاروبار اور جنگ ہی ان کی معیشت۔پاکستان کے پچاس فیصد شرفاء ان کے رابطے میںہیں۔

پاکستان کو ان ابھرتے چیلنجز میں ایک مہذب اور ماڈرن ریاست بننا ہوگا،اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ 1947 تک ہم بھی ہندوستان تھے،برصغیر ہم آج بھی ہیں۔ہم اپنی تاریخ سے انحراف نہیں کر سکتے۔برصغیر آج بھی ایک نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔اس پر بحث اگلے کالم میں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سینٹرل ایشیاء افغانستان میں سوویت یونین پاکستان کے نادر شاہ کے لیے ملک کو کے بعد حملہ ا

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام