پاک سعودی دفاعی معاہدے سے متعلق بھارتی میڈیا کا من گھڑت بیانیہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پاک سعودی دفاعی معاہدے سے متعلق بھارتی میڈیا کا من گھڑت بیانیہ بے نقاب WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )بھارت کے گودی میڈیا کا پاک سعودی دفاعی معاہدے سے متعلق من گھڑت بیانیہ کا پول کھل گیا، وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان نے بھارتی میڈیا کے ہتھکنڈوں کا پردہ چاک کر دیا۔بھارتی فرسٹ پوسٹ نے جھوٹا دعوی کیا کہ پاک سعودی فوجی معاہدہ کے تحت پاکستان 25 ہزار فوجی دستے سعودی عرب بھیجے گا۔
فرسٹ پوسٹ نے جھوٹا دعوی کیا کہ پاکستان سعودی عرب کو ایئر ڈیفنس اور راکٹ کمانڈ قائم کرنے میں تعاون بلکہ مختلف ہتھیاروں کے ساتھ شارٹ رینج میزائل سسٹم بھی فراہم کرے گا۔فرسٹ پوسٹ میں یہ بھی جھوٹا دعوی کیا گیا کہ سعودی عرب چینی JF-17/J-10 خرید کر پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور افغان- بھارت امور میں سفارتی تعاون فراہم کرے گا۔اس جھوٹے بیانیہ کے برعکس 17 ستمبر 2025 کو جاری کردہ پاک سعودی مشترکہ اعلامیہ کے مطابق کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔
سعودی عرب یا پاکستان کی جانب سے دفاعی معاہدہ کی کوئی آپریشنل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں جبکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی معاہدے سے متعلق فوجی تعیناتی یا اعداد و شمار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔پاکستان اور سعودی حکومتوں نے فوجی دستوں کی تعیناتی، تعداد، بریگیڈ یا کمانڈ اسٹرکچر کی کوئی تصدیق نہیں کی، 25 ہزار فوجیوں کا دعوی زیادہ تر بھارتی میڈیا اور غیر مصدقہ تبصروں سے پھیلایا گیا۔بھارت کا گودی میڈیا مضحکہ خیز رپورٹنگ کی وجہ سے پہلے ہی اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ بھارتی میڈیا کا بے بنیاد پروپیگنڈا خطہ میں انتشار پھیلانے کی مذموم کوششوں میں سے ایک ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ میں امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری، مزید 6فلسطینی زخمی غزہ میں امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری، مزید 6فلسطینی زخمی مسلم لیگ ن نے آئندہ ضمنی انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا وقت گزرنے کیساتھ پاکستان ترقی کی جانب جارہا ہے، نواز شریف کی وزیراعظم سے گفتگو آزاد کشمیر میں ان ہاوس تبدیلی کا معاملہ، پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک سے رابطہ، بیرسٹر سلطان نے اہم عہدہ مانگ لیا خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیاں،25خوراج ہلاک، 5جوان شہید وزیراعظم کا ملک بھر کے گھریلو صارفین کیلئے گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معاہدے سے متعلق بھارتی میڈیا پاک سعودی میڈیا کا
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔