Islam Times:
2026-06-02@23:01:48 GMT

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

گلگت ڈویژن اور ضلع استور کے آئمہ جمعہ و خطباء کی ایک نہایت اہم اور ہمہ گیر کانفرنس جامع مسجد شہید آغا سید ضیاءالدین گلگت میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کی صدارت آغا سید راحت حسین الحسینی نے کی۔ کانفرنس میں نگر، ہنزہ، حراموش، جلال آباد، بگروٹ گلگت، بارگو، شروٹ، گاہکوچ اور استور سے آئے ہوئے آئمہ کرام نے بھرپور شرکت کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس کی جھلکیاں

 اسلام ٹائمز۔ گلگت ڈویژن اور ضلع استور کے آئمہ جمعہ و خطباء کی ایک نہایت اہم اور ہمہ گیر کانفرنس جامع مسجد شہید آغا سید ضیاءالدین گلگت میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کی صدارت آغا سید راحت حسین الحسینی نے کی۔ کانفرنس میں نگر، ہنزہ، حراموش، جلال آباد، بگروٹ گلگت، بارگو، شروٹ، گاہکوچ اور استور سے آئے ہوئے آئمہ کرام نے بھرپور شرکت کی اور عالمی، ملکی اور علاقائی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ علماء و خطباء نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور مسلسل دراندازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق اور عالمی امن کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے کراچی میں سندھ پولیس اور صوبائی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کا رخ ملتِ تشیع کی طرف موڑنے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ مزید برآں، اسلام آباد میں تکفیری خوارج کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی اور احمد لدھیانوی جیسے شرانگیز عناصر کو عوامی اجتماع کی اجازت دینا ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا۔ ان تکفیری عناصر کی طرف سے ملتِ تشیع کے خلاف زہرآلود پروپیگنڈے اور اکابرین کی اہانت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ملک میں امن و امان کا تسلسل برقرار رہے۔

علاقائی حالات کے تناظر میں علماء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ اہلسنت بھائیوں کے ساتھ مضبوط اور بامقصد روابط قائم کیے جائیں گے، تاکہ دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں اور گلگت بلتستان میں دیرپا امن، بہترین تعلیمی مواقع اور باعزت روزگار کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ علاوہ ازیں، علاقے میں تفرقہ پھیلانے والے تکفیری عناصر کے خلاف سخت اور دوٹوک موقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ ان کے شر کو جڑ سے اکھاڑ کر امن و استحکام کی فضا کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔ کانفرس میں یہ فیصلہ ہوا کہ آٸندہ گلگت بلتستان کے آٸمہ جمعہ کے مابین ہر تین ماہ بعد اجلاس منعقد ہوگا۔ تاکہ امن و امان اور اتحاد ملت کے ذریعے آنے والے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔ کانفرنس کے اختتام پر اپنے صدارتی خطاب میں آغا راحت الحسینی نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین ہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے اس خطے کو حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ پرور اور شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور معاشرہ ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔ انہوں نے نوجوانوں کی دینی و فکری رہنمائی کے لیے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور علماء کے ساتھ ان کے تعلقات بڑھانے پر بھی زور دیا، تاکہ سنت رسولؐ کی روشنی میں نئی نسلوں کے دلوں میں نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور اخوت کو فروغ ملے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ