فراز الرحمن کا پاکستان میں صدارتی وفاقی نظام کے قیام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(بزنس رپورٹر) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے سابق صدر اور پاکستان بزنس گروپ (پی بی جی او) کے بانی فراز الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان میں دیرپا سیاسی استحکام، میرٹ پر مبنی گورننس اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے صدارتی وفاقی نظام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔فراز الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ پارلیمانی نظام بار بار سیاسی عدم استحکام، مفاہمتی سیاست اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘حکومتوں کی بار بار تبدیلی، سیاسی سودے بازی اور غیر یقینی صورتحال نے ملک کے وڑن اور ترقی کی رفتار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں قیادت بااختیاراور عوام کے سامنے براہ راست جوابدہ ہو۔فراز الرحمٰن نے تجویز دی کہ پاکستان کو ترکی اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے طرز پر صدارتی وفاقی نظام اپنانا چاہئے جہاں منتخب صدر ماہرین اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ٹیم کے ذریعے کارکردگی کی بنیاد پر نتائج فراہم کرتا ہے۔فراز الرحمٰن نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک ایسے نظام کی طرف بڑھنا چاہیے جو اسلامی عدل، میرٹ اور نظم و ضبط کو جدید طرزِ حکومت کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فراز الرحم ن نے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔