کراچی فش ہاربر پر ماہی گیروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سندھ حکومت نے کراچی فش ہاربر پر ماہی گیروں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے کہا کہ ماہی گیروں کو آئین کے مطابق تمام حقوق اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ فش ہاربر پر ماہی گیر طبقہ اپنے روزگار کے دوران درپیش مشکلات سے جلد نجات حاصل کرے۔
یہ بات انہوں نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (FCS) کی چیئرپرسن فاطمہ مجید کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کہی۔ اجلاس میں سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ایم ڈی کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی زاہد کھمیٹیو سمیت ایف سی ایس اور ہاربر اتھارٹی کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔
اجلاس میں فاطمہ مجید نے ماہی گیروں کو فیسوں میں رعایت دینے کی درخواست کی، جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ معاملہ کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے بورڈ میں پیش کیا جائے تاکہ بورڈ کے قواعد و ضوابط کے مطابق رعایت پر غور کیا جا سکے۔
محمد علی ملکانی نے حکام کو ہدایت دی کہ ماہی گیروں کو درپیش مسائل کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ وہ اپنی شکار کی گئی مچھلی کو مارکیٹ تک با آسانی پہنچا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ماہی گیروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنا شکار اور روزگار اطمینان کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہی گیروں کو فش ہاربر کراچی فش
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔