اسلام آباد: ایران نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو نیٹو کی طرز پر مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے تاکہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے کیونکہ یہ خطے کے امن اور مسلم ممالک کے اتحاد کے لیے ضروری قدم ہے،  اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو نیٹو کی طرز پر اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج بنانی چاہیے تاکہ فلسطینیوں کا بھرپور دفاع کیا جا سکے۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ صرف فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے اپنی افواج غزہ بھیجیں  نہ کہ ایسے اقدامات کریں جن سے اسرائیلی تسلط مزید مضبوط ہو۔

قبل ازیں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ اور ان کے وفد سے ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ  پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کے دوران جس طرح ایران کا ساتھ دیا، وہ قابلِ تعریف ہے، اور کوئی ایرانی اسے بھلا نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امتِ مسلمہ کا قیمتی اثاثہ ہے، اور دونوں ممالک مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں جن کا حل تعاون اور اتحاد میں پوشیدہ ہے۔

ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ میڈیکل، توانائی اور بینکنگ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں،  دونوں برادر ممالک کو تجارتی روابط کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ خطے میں معاشی استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل