27ویں ترمیم کابینہ سے منظور کروانے کا فیصلہ، اجلاس کل جمعہ کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ وفاقی حکومت نے 27ویں ترمیم کا مسودہ کابینہ سے منظور کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، کابینہ اجلاس جمعہ کی صبح 9بجکر 45منٹ پر ہوگا۔
کابینہ اجلاس کمیٹی روم نمبر 2 پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں ہوگا۔ وزیر قانون کی جانب سے شرکا کو مسودے پر بریفنگ دی جائے گی، اتحادیوں کے مطالبات بھی کابینہ کے سامنے رکھے جائیں گے۔
وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد 27ویں ترمیم جمعہ کو ہی سینیٹ میں پیش کی جائے گی، جس پر غور کے لیے سینیٹ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کی منظوری دے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی صدارت فاروق ایچ نائیک کریں گے، کمیٹی کو ترمیم پر غور کے لیے دو دن کا وقت دیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس ہفتہ اور اتوار کو بھی ہوں گے۔ پیر کو سینیٹ میں پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوگی جس کے بعد سینیٹ پیر یا منگل کو آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔
ذرائع کے مطابق اسی روز ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی، قومی اسمبلی بحث کے بعد بدھ یا جمعرات تک ترمیم منظور کرلے گی۔
دوسری جانب ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے تناظر میں وزیراعظم اور پیپلز پارٹی رہنماﺅں کی ملاقات ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، پیپلز پارٹی وفد نے اپنی تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھیں۔ ملاقات میں مجوزہ ترمیم کی شقوں اور موقف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
حکومت کو جے یو آئی کے بغیر ہی سینیٹ میں 65 ارکان کی حمایت ملنے کا یقین ہے۔ 96کے ایوان میں پیپلزپارٹی کے 26، (ن) لیگ کے 20، بی اے پی کے 4، ایم کیوایم اور اے این پی کے 3،3 سینیٹرز موجود ہیں۔ اے این پی اور 7آزاد سینیٹرز بھی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔