قومی ایئرلائن کے متعدد طیارے اس وقت تکنیکی مسائل اور مینٹیننس میں تاخیر کے باعث پروازوں کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ پرواز پی کے 225 بدستور ڈیلی چیک کے تحت گراؤنڈ پر موجود ہے۔

اے پی بی ایم ایکس رجسٹریشن والا طیارہ، جو کراچی سے اسلام آباد پی کے 308 پر آپریٹ کر رہا تھا، انجن نمبر 1 کے ایگزاسٹ کون سلیو میں خرابی کے باعث سروس سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پروازیں پی کے 308/309 اور پی کے 451/452 منسوخ کر دی گئیں۔

جمعرات کی شام اسلام آباد تا کراچی پرواز پی کے 369 کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور اسکردو کے درمیان دوطرفہ پروازیں (پی کے 451-452) بھی منسوخ ہوئیں۔

متعدد بین الاقوامی اور ملکی پروازیں نمایاں تاخیر کا شکار ہیں، جن میں پی کے 287 (اسلام آباد تا دوحہ)، پی کے 286 (دوحہ تا پشاور)، پی کے 217 اور 262 (پشاور–ابوظہبی–اسلام آباد) شامل ہیں۔ دبئی سے سیالکوٹ جانے والی پرواز بریک سسٹم کی خرابی کے باعث دبئی میں گراؤنڈ ہے۔

ذرائع کے مطابق پروازوں کی تاخیر اور منسوخیاں صرف ناقص فلیٹ پلاننگ یا مینجمنٹ کی کمزوری نہیں، بلکہ ان کے پیچھے اسکلڈ مین پاور اور پرزہ جات کی شدید کمی بھی اہم وجہ ہے۔ ان مسائل کے باعث طیاروں کی بروقت اور محفوظ مینٹیننس ممکن نہیں ہو پا رہی۔

سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (سیپ) نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی مینٹیننس سرگرمی میں حصہ نہیں لے گی جو طیاروں کی حفاظت یا ایئروردینس کے معیار پر سمجھوتہ کرے۔ انجینئرز کا مؤقف ہے کہ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ فلائٹ سیفٹی اور ویلیویشن اسٹینڈرڈز کا تحفظ ہے، چاہے اس کے نتیجے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق فوری طور پر تربیت یافتہ ٹیکنیکل اسٹاف کی فراہمی، ضروری اسپئیر پارٹس کی مستقل دستیابی اور مؤثر سپلائی چین نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ فلیٹ مینجمنٹ میں حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنائے بغیر ادارے کی ساکھ اور مسافروں کا اعتماد مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسلام آباد کے باعث

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے