حیدرآباد میں بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عاید
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد( آن لائن ) کراچی کے بعد اب حیدرآباد میں بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حکومتِ سندھ کی ہدایت پر نئے جرمانوں کا نفاذ کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور حادثات میں کمی لائی جا سکے۔ پولیس حکام کے مطابق بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر اب 2,500 کے بجائے 20,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹرسائیکل سواروں کو 500 کے بجائے 5,000 روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اسی طرح نو پارکنگ زون میں گاڑی کھڑی کرنے پر 2,000 کے بجائے 10,000 روپے ، تیز رفتاری پر 2,500 کے بجائے 25,000 روپے اور ون وے کی خلاف ورزی پر بھی 25,000 روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق بغیر نمبر پلیٹ گاڑی چلانے پر 5,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹریفک نظام میں بہتری، حادثات میں کمی اور شہریوں کو قانون کی پابندی کی ترغیب دینا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں تاکہ سڑکوں پر نظم و ضبط اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔