اندازہ ہے افغانستان کیا کررہا ہے، دہشتگردوں کو نہ روکا تو ہم بندوبست کریں گے، وزیرداخلہ کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان کو شواہد دیے ہیں کہ کیسے لوگ وہاں ٹریننگ کر رہے ہیں اور اس کے بعد حملے ہوتے ہیں، افغانستان کے شر پسند عناصر کو نہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں کہ ان کا بندوبست کریں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ آج 12 بجکر 39 منٹ پر خود کش حملہ ہوا ، 12 لوگ شہید 27 زخمی ہیں، وزیر اعظم نے زخمیوں کے فوری علاج ہدایت کی۔
خود کش حملہ اور کچہری کے اندر جانے کا پلان کر رہا تھا، موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا، پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کل وانا میں بھی گاڑی سوار خود حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا، وہاں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے، وانا اٹیک میں افغانستان ملوث ہے افغانستان میں کمیونیکیشن ہوتی رہی، کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ افغانستان کیا کررہا ہے مگر سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جس نے کچہری واقعہ کیا اسے بھگتنا پڑے گا، کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان گئے ہیں اور ان کو خواہد دیے ہیں کہ کیسے لوگ وہاں ٹرینننگ کر رہے ہیں اور اس کے بعد حملے ہوتے ہیں، افغانستان کے شر پسند عناصر کو نہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں کہ ان کا بندوبست کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔