Jasarat News:
2026-07-24@05:38:16 GMT

چرچل کا انجام، زرداری کا انعام

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وہ لمحہ جب لندن کی فضا میں دھواں، چیخیں اور بموں کی گونج تھی۔ تب اْس کے الفاظ اہل ِ برطانیہ کے دلوں میں حوصلے کے چراغ جلا رہے تھے۔ وہ ونسٹن چرچل تھا۔ ایک ایسا سیاستدان جس نے اپنی زبان کو تلوار، اور اپنے عزم کو ڈھال بنا لیا۔ جب ساری دنیا سمجھ چکی تھی کہ نازی لشکر برطانیہ کو نگل جائے گا، تب اْس نے کہا: ’’ہم ساحلوں پر لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، مگر ہار نہیں مانیں گے!‘‘ اْس کے یہ الفاظ لندن کی ویران گلیوں میں گونجے۔ ملبے تلے دبے لوگ بھی ایک دوسرے سے کہنے لگے: ’’ہم ہار نہیں مانیں گے!‘‘ چرچل نے اپنی قوم کو ہار سے بچا لیا، مگر وہ خود ووٹ کی طاقت سے ہار گیا۔

جنگ عظیم دوم ختم ہوئی تو برطانیہ بچ گیا، مگر 26 جولائی 1945ء کے عام انتخابات نے وہ منظر دکھایا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یعنی برطانوی عوام نے اپنے ہیرو کو سلام تو کیا، مگر اقتدار اس سے چھین لیا۔ لیبر پارٹی کا کلیمنٹ ایٹلی وزیراعظم بنا اور چرچل اپنے گھر لوٹ گیا۔ خاموش، مگر سر بلند۔ یہ واقعہ جمہوریت کی معراج تھا۔ برطانوی قوم نے بتادیا کہ ہیرو کا احترام الگ، قانون کی بالادستی الگ ہے۔ جمہوریت تاج نہیں جو کسی کے سر پر ہمیشہ کے لیے رکھا جائے۔ یہ امانت ہے جو صرف عوام کی مرضی سے دی جاتی ہے۔ چرچل نے اپنی فوج کی فتح کے باوجود خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا اور باشعور عوام نے بھی اْسے تخت سے اُتار کر یہ پیغام دیا کہ قومیں اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب وہ اپنے محبوب رہنما کو بھی قانون کے دائرے میں رکھیں۔

اب ذرا ہم اپنی سرزمین پر نظر ڈالیں جہاں ایک صاحب نے دوسری جنگ عظیم کی طرح کوئی جنگ تو نہیں جیتی مگر وہ آئین میں اپنے لیے دائمی تحفظ کے تمغے اپنے سینے پر سجانے کے خواہش مند ہیں۔ اقتدار سے چمٹے رہنے والے ہمارے رہنما یہ بھول گئے ہیں کہ جب حکمران عوام سے کٹ جاتے ہیں، تو پھر کوئی آئین اْنہیں تاحیات بچا نہیں سکتا۔ کیونکہ جو لوگ آج ان کے لیے ستائیسویں ترمیم منظور کرواتے ہیں، وہی کل اٹھائیسویں ترمیم لا کر ان تمام مراعات اور قانونی تحفظات کو ختم بھی کر سکتے ہیں۔ زرداری صاحب شاید بھول گئے ہیں کہ قوموں کی تاریخ میں عزت اْنہیں ملتی ہے جو عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، نہ کہ اْنہیں جو آئین سے بالاتر اور قانون سے محفوظ رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ چرچل جنگ جیت کر بھی قانون کے سامنے سر جھکا گیا اور ہمارے یہاں یہ رہنما مقدمات میں گھر کر بھی قانون سے بھاگنا چاہتے ہیں۔

یہ وہ فرق ہے جس نے ایک قوم کو دنیا کی جمہوریت کا قائد بنا دیا،اور دوسری کو مراعات یافتہ اور اور مفاد پرستوں کا غلام۔ کاش ہمارے حکمران یہ سمجھ پاتے کہ جمہوریت اْن کے نام پر نہیں، اْن کے کردار پر زندہ رہتی ہے۔ اور وہ دن کسی بھی قوم کے لیے سب سے اندوہناک ہوتا ہے جب اس کا قانون کمزور اور حکمران ناقابل ِ گرفت ہو جائے۔ چرچل کا انجام جمہوریت کی سربلندی تھا، اور زرداری کا انعام قانون کی بے بسی۔ یہی فرق ہے ایک نے قوم کو تاریخ کا فخر دیا، دوسرا تاریخ کو شرمندگی کا ایک اور باب دینے کا خواہش مند ہے۔

عبید مغل.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا نہیں

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن