نشانہ بازی میں مہارت فوجی تربیت کا بنیادی جزو رہنا چاہیے: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
راولپنڈی(این این آئی) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ نشانہ بازی میں مہارت کو فوجی تربیت کا بنیادی جزو رہنا چاہیے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 45ویں پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن سینٹرل میٹ کی اختتامی تقریب جہلم میں ہوئی جس میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس نشانہ بازی کے مقابلے میں پاک فوج، فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور صوبائی ٹیموں نے بھرپور شرکت کی، 45ویں پی اے آر اے سنٹرل میٹ میں دو ہزار سے زائد شوٹرز نے حصہ لیا۔پاک فوج نے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 جیت لی، پاک فوج نے تمام چار انٹر سروسز میچز میں کامیابی حاصل کی، پنجاب رجمنٹ نے یونٹ فائرنگ پروفیشنسی میچ گروپ-ون میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔پنجاب رجمنٹ کے سپاہی محمد عرفان ماسٹر ایٹ آرمز قرار پائے، آرمی مارکس مین شپ یونٹ کے نائب صوبیدار عمر فاروق نے آرمی ہنڈرڈ رائفل میچ ٹرافی جیت لی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شرکاء کی بہترین نشانہ بازی کو سراہا اور کہا کہ شوٹنگ میں مہارت فوجی تربیت کا بنیادی جزو رہنا چاہئے۔علاوہ ازیں آرمی چیف نے ملٹری کالج جہلم کی سو سالہ تقریبات میں بھی شرکت کی، سینٹینری یادگار اور کالج میوزیم کا افتتاح کیا، کالج کی ایک صدی پر محیط شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔آرمی چیف نے کہا کہ ملٹری کالج جہلم نے قیادت، نظم و ضبط اور حب الوطنی کو فروغ دیا، انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے قبل ازیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آمد پر کور کمانڈر راولپنڈی اور آئی جی ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن نے استقبال کیا۔ سی او ایس نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل پاک فوج
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔