اسلام آباد دھماکا: لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل، 7 لاشیں ورثا کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) منگل کو جی الیون کچہری میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق 7 افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔
پمز انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں جن میں وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہےکہ 10 شہدا کی شناخت ہوچکی ہے اور تاحال 2 کی شناخت نہیں ہوسکی، 36 زخمیوں کو پمزاسپتال لایا گیا اور 18 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا، 14 زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پمز اسپتال کے ڈاکٹر مبشر کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 4 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
ریڈ زون میں سکیورٹی سخت
دوسری جانب اسلام آباد کچہری میں دھماکے کے بعد ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مرکزی گیٹ پر رک کر سکیورٹی کا جائزہ لیا جہاں انہوں نے ہائیکورٹ کے دوسرے گیٹ پر بھی پولیس کی گاڑی کھڑی کرنے کی ہدایت کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کےباہر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔