27 ویں آئینی ترمیم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا۔ شہری حسن لطیف کی جانب سے ایڈووکیٹ مقسط سلیم کے توسط سے دائر درخواست میں نئی آئینی ترمیم کو آئین کی بنیادی ساخت اور آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزارت قانون سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ منظوری دے چکا ہے، ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے متعدد اختیارات ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جا رہے ہیں جبکہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو تاحیات استثنا دینے کی شق بھی شامل ہے۔ یہ ترمیم آئین کی اصل روح، اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی خودمختاری کے منافی ہے، عدالت 27 ویں آئینی ترمیم کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویں ا ئینی ترمیم
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔