ججز کی تعیناتی کے لیے عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ججز کی تعیناتی کے عمل میں ایگزیکٹو اتھارٹی عدلیہ سے مشاورت کے بغیر فیصلے نہیں کر سکتی۔
مزید پڑھیں: سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، نئے ججز تعیناتی کی منظوری
عدالت نے واضح کیاکہ حکومت کو عدلیہ کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے تمام تقرریوں میں مشاورتی عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس بابر ستار نے وکیل عمار سہری کی دائر کردہ درخواست منظور کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست کے تینوں ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے آزاد ہیں اور کسی ادارے کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں۔ ایسا کوئی بھی قانون یا انتظامی اقدام جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے، آئین کے منافی اور کالعدم تصور ہوگا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ماتحت عدلیہ کو بھی وہی آئینی تحفظ حاصل ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے لیے یقینی بنایا گیا ہے۔ ججز کو اپنی سروس کے دوران فیصلے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور کسی بیرونی دباؤ کے بغیر کرنے کا حق حاصل ہے۔
مزید برآں عدالت نے ہدایت دی کہ ججز کی تعیناتی کے عمل میں وفاقی حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد ہی اختیارات استعمال کرے۔
مزید پڑھیں: ججز کی نامزدگیوں کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب
فیصلے میں کہا گیا کہ دیگر صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے ججز اسلام آباد کی عدلیہ کی خودمختاری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد ہائیکورٹ ججز تعیناتی جسٹس بابر ستار لازمی قرار مشاورت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ججز تعیناتی جسٹس بابر ستار لازمی قرار مشاورت وی نیوز ججز کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔