وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کا پہلا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کا پہلا فیصلہ سامنے آ گیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کا رجسٹرار لگانے کا فیصلہ کیا، چیف جسٹس امین الدین خان نے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ کو رجسٹرار آئینی عدالت لگا دیا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس امین الدین خان نے مظہر بھٹی کو سیکرٹری ٹو چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت تعینات کر دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان اور 3 ججز نے آج اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاک فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام تقریب میں شریک ہوئے۔
بعدازاں پہلے مرحلے میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 ججز نے حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے حلف لیا، حلف اٹھانے والوں میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق جسٹس کے کے آغا کل وفاقی عدالت کے جج کا حلف اٹھائیں گے، چیف جسٹس امین الدین خان جسٹس کے کے آغا سے حلف لیں گے، حلف برداری کی تقریب اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیف جسٹس امین الدین خان جسٹس امین الدین خان نے وفاقی ا ئینی عدالت کے چیف جسٹس ا
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔