ریکارڈ بنتے رہتے ہیں ٹیم کو میچ جتوانا اہم ہوتا ہے، بابر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ریکارڈ تو بنتے رہتے ہیں ٹیم کو میچ جتوانا اہم ہوتا ہے۔ راولپنڈی میں پاک سری لنکا ون ڈے سیریز کا دوسرا میچ جیتنے کے بعد پریس کانفرنس میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ سیریز میں اچھا آغاز ملا لیکن بدقسمتی سے کارکردگی برقرار نہ رکھ سکا۔ انہوں نے کہا کہ اننگز کا آغاز فخر زمان کے ساتھ بہترین کھیلنے کے ارادے سے کیا تھا۔ صورتحال کے مطابق خود کو کھیل میں واپس لانے میں کامیاب ہوا۔ بابر اعظم کا کہنا تھا کہ سنچری ہمیشہ حوصلہ دیتی ہے، اور اس بار بھی اسی جذبے نے انہیں آگے بڑھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لمبے عرصے کی محنت کے بعد آج کامیابی ملی۔ مشکل وقت میں ذہن میں بے شمار خیالات آتے ہیں لیکن حوصلہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جب کبھی مشکل وقت آئے تو خود پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ بابر اعظم نے کہا کہ ہر روز کے پلان پر محنت کی، جب مستقل مزاجی ہو تو نتیجہ ضرور ملتا ہے۔ قومی بلے باز نے تسلیم کیا کہ ٹف ٹائم میں فٹنس بہتر کرنے پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے اپنے قریبی کوچز شاہد اسلم، منصور رانا، گھر والوں اور بچپن کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل مرحلہ میں رہنمائی کی۔ خراب فارم پر ہونے والی تنقید سے متعلق بابر اعظم نے کہا کہ میں نے تنقید کو اگنور کرکے خود کو بہتر بنانے پر توجہ رکھی۔ سب کھلاڑیوں نے میرا ساتھ دیا، فینز نے مجھے نہیں چھوڑا، ان سب کا بیک کرنا میرے لیے بوسٹر ثابت ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔