data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کے 35 سالہ شہری سید راشد نے بتایا کہ سعودی عرب جانے والی عمرہ بس کے حادثے میں ان کے 18 قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔ یہ افسوسناک واقعہ مکہ سے مدینہ کی طرف سفر کے دوران پیش آیا، جس میں 45 افراد ہلاک ہوئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں راشد کے والدین، 65 سالہ شیخ نصیر الدین، 60 سالہ اختر بیگم، امریکا سے عمرہ پر آئے 38 سالہ بھائی، 38 سالہ بھابھی اور ان کے تین بچے شامل ہیں۔ اس حادثے نے خاندان کو ناقابل تلافی صدمے میں مبتلا کر دیا۔

حادثے کی وجہ ایک آئل ٹینکر تھا جس نے بس سے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں 42 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع میں بڑی خبر کے طور پر سامنے آیا۔

راشد نے کہا کہ وہ 9 نومبر کو حیدرآباد ایئرپورٹ سے اپنے تمام رشتہ داروں کو خدا حافظ کہہ کر بھیج رہا تھا اور بچوں کے ساتھ سب کو ایک ساتھ سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ بات مانی جاتی تو کچھ جانیں بچ سکتی تھیں۔ راشد نے کہا کہ یہ آخری ملاقات ہرگز متوقع نہیں تھی، اور اس کی یاد ہمیشہ ان کے دل میں رہے گی۔

اسی حادثے میں ایک اور بھارتی خاندان کے 5 افراد بھی ہلاک ہوئے، جن میں دو سالہ بچے، ساس اور بھانجی شامل ہیں۔ اس واقعے نے متعلقہ خاندانوں میں شدید غم و صدمہ پیدا کر دیا ہے۔

یہ المناک واقعہ سعودی عرب میں عمرہ زائرین کی حفاظت اور بسوں کی نقل و حمل کے معیار پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے، اور بھارت میں دیگر عمرہ زائرین کے خاندان اس خبر سے پریشان ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی