کراچی کا ٹریفک بے احتیاطی، بے حسی، بے بسی اور لاپروائی کی دردناک داستان
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اختر شیخ
پاکستان میں ٹریفک کا بگڑتا ہوا نظام ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ کسی بھی ریاست کا نظم و نسق عوامی تعاون کے بغیر موثر نہیں چل سکتا مگر ہمارے ہاں ٹریفک کے معاملے میں یہ تعاون نہایت کمزور ہے۔ قوانین موجود ہیں، ٹریفک پولیس بھی اپنے دائرۂ کار میں چالان اور جرمانے کرتی ہے، گو کے ان کی بھی بہت کمزوریاں ہیں، مگر مجموعی طور پر عوامی رویہ ایسا ہے کہ گویا قانون ان کے لیے بنا ہی نہ ہو۔ سڑکوں پر ایک عجیب سا ازدحام ہر ایک کی جلدی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کا جنون اور نتیجہ یہ کہ قانون پر چلنے والا ہی اپنے آپ کو مشکل میں پاتا ہے۔ شاہراہوں پر غلط پارکنگ بنا ہیلمٹ موٹر سائیکل بغیر سیٹ بیلٹ گاڑیاں، اور دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال اتنا عام ہو چکا ہے کہ شاید اب کوئی اسے خلاف ورزی سمجھتا بھی نہیں۔ یہی رویے ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور ان حادثات کی قیمت جانوں کی صورت میں ادا ہوتی ہے۔ کتنی ہی مائیں آج بھی اپنے نوجوان بچوں کی اچانک موت کا دکھ اٹھائے بیٹھی ہیں، کتنے بچے کم عمری ہی میں اپنے والدین کو کھو کر زندگی بھر کے صدمے کا شکار ہو جاتے ہیں، اور بہت سے لوگ معذوری اور نفسیاتی تکالیف کے ساتھ عمر گزارتے ہیں۔ افسوس ہمیں متعلقہ اداروں کی کمزوری تو دکھائی دیتی ہے مگر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان حادثات میں ہماری اپنی غلطیاں سب سے زیادہ شامل ہوتی ہیں۔
کراچی کی سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کی ایک بڑی وجہ ڈرائیورز کا وہ خطرناک رجحان ہے جس میں وہ بائیں جانب سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ہمارا نظام رائٹ ہینڈ ڈرائیونگ ہے۔ سامنے والی گاڑی اگر بائیں طرف مڑنے کا اشارہ بھی دے رہی ہو تب بھی پیچھے آنے والا نوجوان اسی طرف سے گھسنے کی کوشش کرتا ہے، اور یہی حرکت کئی جان لیوا حادثات کا سبب بنتی ہے۔ خصوصاً نوجوانوں میں یہ بے احتیاطی بہت زیادہ ہے جو نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
رات کے اوقات میں یہ صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ کراچی میں ستر فی صد موٹر سائیکلوں کی ہیڈ لائٹ تک صحیح کام نہیں کرتی۔ اندھیرے میں تیز رفتار بائیکیں، سڑکوں پر چلتے بزرگوں اور بچوں کی پروا کیے بغیر، نہ صرف حادثات کا باعث بنتی ہیں بلکہ خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ مگر ایک اور لمحہ ٔ فکر یہ ہے کہ آج والدین خود اپنی اولاد کو حادثوں کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسے بچوں کو جن کی عمر ابھی شناختی کارڈ کے قابل بھی نہیں نہ قوانین کا علم ہے، نہ سڑک کا شعور انہیں والدین باقاعدہ اپنی بائیکیں پکڑا دیتے ہیں۔ وہ بچے نہ رفتار سمجھتے ہیں نہ ٹریفک کا بہاؤ، اور والدین اسے معمول کی بات سمجھتے ہیں۔ جب حادثہ ہو جائے تو اپنی غلطی ماننے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، مگر بعد میں یہی لوگ اپنے ہی رویے کے ذریعہ تربیت پانے والے بچوں کو روتے بھی ہیں۔ اولاد والدین کا سہارا ہوتی ہے اور اگر کسی مجبوری میں بچہ بائیک لے کر جا رہا ہو تو والدین کی ذمے داری ہے کہ کم از کم اسے سمجھا کر بھیجیں کہ مین شاہراہ پر نہ جائے، گھر کے قریب سے ضرورت کی چیز لے آئے۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ کم عمر بچوں کو بائیک دینا دراصل اپنے آپ پر اور اپنی اولاد پر ظلم ہے۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، سڑکوں کی خستہ حالی، قوانین سے لاعلمی اور روڈ سب سے زیادہ سیفٹی کی تعلیم کا فقدان یہ سب مسائل مل کر حادثات کو جنم دیتے ہیں۔ مگر ان سب سے بڑا مسئلہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ ٹریفک حادثات قدرت کا نہیں بلکہ ہماری اپنی غلطیوں اور جلد بازی کا نتیجہ ہوتے ہیں تو بہت سے دکھ ٹل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب، ادارے بھی اور عوام بھی اپنی ذمے داری محسوس کریں تاکہ ہماری سڑکیں بھی محفوظ ہوں اور ہماری زندگیاں بھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں یہ
پڑھیں:
کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
شہر قائد کے علاقے مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مواچھ گوٹھ کے نور شاہ محلے میں 7 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوا جس کی شناخت جہانگیر کے نام سے کی گئی۔
ایس ایچ او موچکو واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گرا۔
کھلے مین ہول میں گرکر بچے کی ہلاکت پر اہل خانہ شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔
مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گرنے سے بچے کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے بچے کی میت رکھ کر احتجاج کیا اور حب ریور روڈ و ناردرن بائی پاس پر ٹریفک کو بند کردیا۔