data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اختر شیخ
پاکستان میں ٹریفک کا بگڑتا ہوا نظام ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ کسی بھی ریاست کا نظم و نسق عوامی تعاون کے بغیر موثر نہیں چل سکتا مگر ہمارے ہاں ٹریفک کے معاملے میں یہ تعاون نہایت کمزور ہے۔ قوانین موجود ہیں، ٹریفک پولیس بھی اپنے دائرۂ کار میں چالان اور جرمانے کرتی ہے، گو کے ان کی بھی بہت کمزوریاں ہیں، مگر مجموعی طور پر عوامی رویہ ایسا ہے کہ گویا قانون ان کے لیے بنا ہی نہ ہو۔ سڑکوں پر ایک عجیب سا ازدحام ہر ایک کی جلدی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کا جنون اور نتیجہ یہ کہ قانون پر چلنے والا ہی اپنے آپ کو مشکل میں پاتا ہے۔ شاہراہوں پر غلط پارکنگ بنا ہیلمٹ موٹر سائیکل بغیر سیٹ بیلٹ گاڑیاں، اور دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال اتنا عام ہو چکا ہے کہ شاید اب کوئی اسے خلاف ورزی سمجھتا بھی نہیں۔ یہی رویے ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور ان حادثات کی قیمت جانوں کی صورت میں ادا ہوتی ہے۔ کتنی ہی مائیں آج بھی اپنے نوجوان بچوں کی اچانک موت کا دکھ اٹھائے بیٹھی ہیں، کتنے بچے کم عمری ہی میں اپنے والدین کو کھو کر زندگی بھر کے صدمے کا شکار ہو جاتے ہیں، اور بہت سے لوگ معذوری اور نفسیاتی تکالیف کے ساتھ عمر گزارتے ہیں۔ افسوس ہمیں متعلقہ اداروں کی کمزوری تو دکھائی دیتی ہے مگر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان حادثات میں ہماری اپنی غلطیاں سب سے زیادہ شامل ہوتی ہیں۔

کراچی کی سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کی ایک بڑی وجہ ڈرائیورز کا وہ خطرناک رجحان ہے جس میں وہ بائیں جانب سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ہمارا نظام رائٹ ہینڈ ڈرائیونگ ہے۔ سامنے والی گاڑی اگر بائیں طرف مڑنے کا اشارہ بھی دے رہی ہو تب بھی پیچھے آنے والا نوجوان اسی طرف سے گھسنے کی کوشش کرتا ہے، اور یہی حرکت کئی جان لیوا حادثات کا سبب بنتی ہے۔ خصوصاً نوجوانوں میں یہ بے احتیاطی بہت زیادہ ہے جو نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

رات کے اوقات میں یہ صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ کراچی میں ستر فی صد موٹر سائیکلوں کی ہیڈ لائٹ تک صحیح کام نہیں کرتی۔ اندھیرے میں تیز رفتار بائیکیں، سڑکوں پر چلتے بزرگوں اور بچوں کی پروا کیے بغیر، نہ صرف حادثات کا باعث بنتی ہیں بلکہ خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ مگر ایک اور لمحہ ٔ فکر یہ ہے کہ آج والدین خود اپنی اولاد کو حادثوں کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسے بچوں کو جن کی عمر ابھی شناختی کارڈ کے قابل بھی نہیں نہ قوانین کا علم ہے، نہ سڑک کا شعور انہیں والدین باقاعدہ اپنی بائیکیں پکڑا دیتے ہیں۔ وہ بچے نہ رفتار سمجھتے ہیں نہ ٹریفک کا بہاؤ، اور والدین اسے معمول کی بات سمجھتے ہیں۔ جب حادثہ ہو جائے تو اپنی غلطی ماننے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، مگر بعد میں یہی لوگ اپنے ہی رویے کے ذریعہ تربیت پانے والے بچوں کو روتے بھی ہیں۔ اولاد والدین کا سہارا ہوتی ہے اور اگر کسی مجبوری میں بچہ بائیک لے کر جا رہا ہو تو والدین کی ذمے داری ہے کہ کم از کم اسے سمجھا کر بھیجیں کہ مین شاہراہ پر نہ جائے، گھر کے قریب سے ضرورت کی چیز لے آئے۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ کم عمر بچوں کو بائیک دینا دراصل اپنے آپ پر اور اپنی اولاد پر ظلم ہے۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، سڑکوں کی خستہ حالی، قوانین سے لاعلمی اور روڈ سب سے زیادہ سیفٹی کی تعلیم کا فقدان یہ سب مسائل مل کر حادثات کو جنم دیتے ہیں۔ مگر ان سب سے بڑا مسئلہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ ٹریفک حادثات قدرت کا نہیں بلکہ ہماری اپنی غلطیوں اور جلد بازی کا نتیجہ ہوتے ہیں تو بہت سے دکھ ٹل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب، ادارے بھی اور عوام بھی اپنی ذمے داری محسوس کریں تاکہ ہماری سڑکیں بھی محفوظ ہوں اور ہماری زندگیاں بھی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں یہ

پڑھیں:

کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے

فائل فوٹو۔

جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے