انتخابات پرامن‘ ٹرن آؤٹ کم رہا: چیف الیکشن کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب بہت پرامن رہا، اس انتخاب میں نمبر گیم تبدیلی نہیں ہونی تھی جس کی وجہ سے عوام کی دلچسپی کم رہی۔ میڈیا سے گفتگو میں سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پی کے کی حکومتوں کا شکرگزار ہوں۔ ضمنی انتخابات میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے۔ کم ٹرن آؤٹ کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کمشن نے بلاتفریق ایکشن لیا۔ ڈی آر اوز نے کچھ رپورٹس بھیجی ہیں،کچھ شکایات کا کمشن نے خود نوٹس لیا۔ ضمنی انتخاب میں کوئی غیر معمولی شکایات موصول نہیں ہوئی، لوکل گورنمنٹ انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک وزیر اور امیدوار کو نااہل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کی ایک لیگل سکیم ہے، دنیا بھر میں انتخابات میں خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، کمشن وقتاً فوقتاً اپنی تجاویز حکومت کو بھیجتا رہتا ہے۔ کمشن کے پاس ٹربیونل کو ہدایات دینے کا کوئی اختیار نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔