صوابی میں خاتون کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ہاں بیک وقت 4 بچوں (کواڈروپلٹس) کی پیدائش ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹر فہیم اشرف نے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش
ترجمان باچا خان میڈیکل کمپلیکس رحم خان کے مطابق 4 بچوں میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
ماں اور بچے دونوں صحت مند ہیں جبکہ بچوں کے والدین کا تعلق گاؤں سلیم خان سے ہے۔
مزید پڑھیے: رانیا کی داستان غم، اللہ نے 11 سال بعد جڑواں بچے عطا کیے، اسرائیل نے دونوں چھین لیے
انچارج نیونٹل کیئر یونٹ ڈاکٹر عنایت اللہ کے مطابق بچوں کی پیدائش بغیر آپریشن (نارمل ڈیلیوری) کے ہوئی ہے اور چاروں بچے صحت مند اور تندرست ہیں۔
بچوں کے والد مقصودعلی کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ 4 بچوں کی پیدائش پر بے حد خوش ہوں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں شامی جڑواں بچیوں کی کامیاب علیحدگی، انسانیت اور میڈیکل سائنس کی نئی مثال
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسپتال کے انتظامیہ اور ڈاکٹرز کا خصوصی طور پر شکر گزار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چار بچوں کی پیدائش صوابی صوابی 4 بچوں کی پیدائش کواڈروپلٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چار بچوں کی پیدائش صوابی صوابی 4 بچوں کی پیدائش بچوں کی پیدائش
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔