غزہ: قیامِ امن ہنوز تشنہ طلب کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیس نکاتی امن معاہدے کے تحت ہونے والی جنگ بندی کی باجود اسرائیل جس بڑے پیمانے پر معاہدے کی خلاف وزری کر رہا ہے، اس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کسی بھی طور اپنے جنگی جنون کو کم کرنے پر آمادہ نہیں، گزشتہ دنوں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی غزہ امن منصوبے کی منظوری دی تھی، جس پر حماس نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور اسے فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، خود ارادیت اور قومی مطالبات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ حماس کا کہنا تھا کہ قرارداد اسرائیلی قبضے کی جگہ امریکی نوآبادیاتی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے، غزہ کو فلسطینی جغرافیہ سے الگ کرکے اس پر غیر ملکی کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کو کسی طور قبول نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی مزاحمت ختم کی جاسکتی ہے۔ بین الاقوامی استحکام فورس دراصل قبضہ برقرار رکھنے والی فورس ہے۔ حماس نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی، انسانی امداد اور تعمیر نو کو سیاسی بلیک میلنگ کا آلہ نہیں بننے دیا جائے گا، اور فلسطینی ریاست کی تشکیل، یروشلم کو دارالحکومت بنانے اور قبضے کے مکمل خاتمے کے بغیر کوئی بھی منصوبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ امن منصوبے کی جو قرار داد منظور کی ہے اسے غزہ میں استحکام، تعمیر نو، اور امن کے لیے سنگ میل قرار دیا جارہا ہے مگر عملاً صورتحال یہ ہے کہ غزہ امن منصوبے کے تحت ہونے والی جنگ بندی معاہدے کے باوجود نہتے فلسطینی عوام پر اسرائیل بمباری ہنوز جاری ہے، 10 اکتوبر سے لے کر اب تک اسرائیل غزہ پر 490 حملے کرچکا ہے، غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جن میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، جبکہ پندرہ ہزار سے زائد عمارتیں تباہ و برباد کردی گئیں۔ الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق پچھلے 52 دنوں میں 41 ایسے حملے ہوئے، جن میں بمباری، گولی باری اور گھروں کی توڑ پھوڑ شامل تھی، علاوہ ازیں غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں بھی مسلسل روکاٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے رفح کی سرنگوں میں محصور تقریباً دو سو حماس کے جنگجوئوں کو اسرائیل کسی طور محفوظ راستہ دینے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ حماس نے ثالثوں پر بھی زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کو خطرے میں ڈالنے والے اس بحران کا حل تلاش کریں جس کے جواب میں مصری سیکورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ محفوظ راستے کے بدلے رفح میں موجود جنگجو اپنے ہتھیار مصر کے حوالے کریں اور وہاں موجود سرنگوں کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ انہیں تباہ کیا جا سکے تاہم حماس اور اس کے جنگجو کسی طور ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں، حماس نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ’’دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہتھیار ڈالنے اور خود کو حوالے کرنے کا تصور القسام بریگیڈز کی لغت میں موجود نہیں‘‘۔ جبکہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ 200 جنگجوؤں کے لیے تجویز کردہ معاہدہ غزہ بھر میں حماس کی فورسز کو غیر مسلح کرنے کے وسیع عمل کا ایک امتحان ہو گا۔ غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ حملے اور معصوم فلسطینیوں کو خاک وخون میں نہلانے کے عمل نے پوری دنیا میں اس کے خلاف شدید غم و غصہ اور رد عمل پیدا کیا، پوری دنیا کے امن پسند عوام نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اسرائیلی بمباری کے خلاف مظاہرے کیے، اس صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر نے اپنی نیک نامی میں اضافے اور اسرائیل کو سفارتی محاذ پر تنہا ہونے سے بچانے کے لیے جس بیس نکاتی امن منصوبے کا اعلان کیا جس کی توثیق مسلم حکمرانوں اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی کردی مگر اس کے باوجود پرنالا آج بھی وہیں گر رہا ہے، امن کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ خود واشنگٹن پوسٹ نے بھی اس حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کے منصوبے کو عملی نفاذ کے مرحلے میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اہم ممالک سے فوجی شرکت حاصل کرنے میں دشواری اور فلسطینی عوام کے ساتھ ممکنہ جھڑپوں کا خوف اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ اخبار نے امریکی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ فورس تین بریگیڈز پر مشتمل ہو سکتی ہے، یعنی تقریباً 15 ہزار فوجی، جبکہ ایک دوسرے ذریعے نے تعداد 20 ہزار تک بتائی۔ تاہم تعیناتی کے تفصیلات، جنگ بندی کے اصول اور میدان میں ذمے داریاں ابھی تک غیر واضح ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ شریک ممالک کے حتمی فیصلے کے بعد لاجسٹک سپورٹ اور تربیت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ واشنگٹن کی امید ہے کہ 2026 کے آغاز پر تعیناتی شروع ہو جائے گی۔ لیکن ممکنہ ممالک کی فہرست ابھی تک غیر یقینی ہے اور کوئی پختہ وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ 20 ہزار فوجیوں کا ذکر ان کی امن فورسز کی عمومی تیاری کو ظاہر کرتا ہے، یہ غزہ کے لیے کوئی برا وعدہ نہیں ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق غزہ پلان ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، عالمی سطح پر انتظار اور مطلوبہ جوش و خروش کی کمی ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے مقرر کردہ ٹائم لائن میں اس کے نفاذ کے امکانات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر نے جو بیس نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا وہ غزہ میں حقیقتاً امن کے قیام کا منصوبہ نہیں بلکہ وہ اسرائیل کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی، اسرائیل اپنے شہریوں کی عدم بازیابی پر سخت دبائو میں تھا، اور چاہتا تھا کہ کسی بھی طرح اس کے یرغمالی رہا ہو جائیں، یہ امن کا موثر فریم ورک نہیں اسرائیلی مفادات کا تحفظ اور حماس کو کمزور کرنے کی سازش تھی، جس کی تائید بوجودہ کی گئی تھی، تاہم اس وقت بھی حماس نے ان نکات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا خودبین الاقوامی امور کے ماہرین بھی پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ مجوزہ بیس نکاتی فامورلہ قیامِ امن کا ضامن نہیں ہوسکتا کیونکہ اس امن معاہدے میں فلسطینیوں کے حق ِ خود ارادیت کا کوئی ذکر نہیں تھا، حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا، امن منصوبے کی ساری شقوں کا فائدہ براہ راست اسرائیل کو پہنچ رہا تھا۔ کوشش کی گئی کہ کسی طرح نیتن یاہو کی سیاسی اور فوجی ضرورتوں کو پورا کردیا جائے اور اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب بھی رہے، آج اگر غزہ کے عوام مشکلات سے دوچار ہیں تو اس کی بنیادی وجہ امریکا اور ان ثالثی ممالک کی مجرمانہ خاموشی ہے جو سیاسی دبائو اور اسرائیل کی بے جا حمایت کررہے ہیں، اگر امریکی صدر غزہ میں حقیقتاً قیامِ امن کے خواہاں ہیں تو انہیں اسرائیل کی فوجی امداد فوری طور پر بند کرنا چاہیے تاکہ معاہدے کا عملی نفاذ ممکن ہوسکے۔ مسلم حکمرانوں بالخصوص مصر، قطر اور ترکیہ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور اسرائیل پر براہ راست دبائو ڈالنا چاہیے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے تاکہ غزہ کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں اور تعمیر نو کا آغاز ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل امریکی صدر بیس نکاتی واضح کیا کرنے کی کے لیے امن کے اور اس
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی