پاکستان کا شمسی انقلاب دنیا کیلئے مثال بن چکا ہے: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمسی انقلاب دنیا کے لیے مثال بن چکا ہے۔ 17 گیگا واٹ سولر پینلز درآمد کر کے پاکستان ایشیا کی تیزی سے بڑھتی شمسی توانائی مارکیٹ بن چکا ہے۔
اسلام آباد میں ایشیا انرجی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 17 ہزار میگاواٹ سولر پینلز عوام نے خود نصب کیے، آج پاکستان 52 فیصد بجلی صاف توانائی سے پیدا کر رہا ہے یہ تاریخی سنگِ میل ہے۔
اویس لغاری کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ اصلاحات سے نظام مضبوط اور صارفین کا اعتماد مزید بہتر ہوا، سیلاب، ہیٹ ویوز اور خشک سالی خطے کو توانائی منتقلی پر مجبور کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ این ٹی ڈی سی کی تنظیمِ نو سے گرڈ آپریشنز اور پروجیکٹ مینجمنٹ میں بہتری آئے گی، کلین اینڈ گرین انرجی قومی ترجیح ہے، اس کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، عالمی توانائی سفارتکاری تیزی سے بدل رہی ہے، ایشیا کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں تمام شعبوں میں بہتری کے اقدامات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی ممالک میں سالانہ 300 ارب ڈالر کے موسمیاتی نقصانات ریکارڈ ہو رہے ہیں، قابلِ تجدید توانائی سرمایہ کاری میں ایشیا 900 فیصد اضافہ کے ساتھ سرفہرست ہے، ڈی کاربنائزیشن، ڈیجیٹائزیشن اور ڈی سینٹر لائزیشن کی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسمارٹ میٹرز اور آئی سی ٹی اپ گریڈیشن جدید اسمارٹ گرڈ کی بنیاد رکھ رہے ہیں، ڈسکوز کی نجکاری اور سرکلر ڈیٹ میں کمی ہماری بنیادی ترجیحات ہیں، ایشیا توانائی منتقلی کا مرکز ہے، دنیا کی 48 فیصد انرجی کھپت اسی خطے میں ہوتی ہے۔
اویس لغاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کے ٹیوب ویلز سولرائز کر کے پانی اور توانائی دونوں بحرانوں کا حل نکال رہے ہیں، اپنا میٹر اپنی ریڈنگ ایپ سے صارفین کو مکمل بااختیار بنایا گیا، پاور سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنا رہے ہیں، پاکستان 2035 تک 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین انرجی سے حاصل کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اویس لغاری رہے ہیں کہا کہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔