کراچی میں 2 دہائیوں بعد 35 ویں قومی کھیلوں کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہرقائد میں 2دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد قومی کھیلوں کا افتتاح کردیا گیا۔
افتتاحی تقریب نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں منعقد کی گئی جس میں ملک بھر سے آئے ہزاروں ایتھلیٹس سمیت آفیشلز سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جبکہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 35ویں نیشنل گیمز کا افتتاح کیا، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے اولمپیئن اصلاح الدین اور دیگر کے ساتھ مل کر قومی کھیلوں کی مشعل روشن کی۔
قومی کھیلوں کے افتتاح کے حوالےتقریب میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو بچے میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ کل ملک کے لیے میڈلز جیتیں گے، امید کرتا ہوں کہ سب مل کر نیشنل گیمز کو کامیاب بنائیں گے۔
ان کا کہناتھاکہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں کھیلوں میں بھرپور حصہ لیں، نیشنل گیمز کی کامیاب میزبانی پر سب کو مبارکباد پیش کرتاہوں، فخر کی بات ہے کہ 18سال بعد کراچی میں نیشنل گیمز منعقد ہو رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے 24 مقامات پر 32 کھیلوں کے مقابلے منعقد ہو رہے ہیں، یہاں پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کی خوبصورتی جھلک رہی ہے، یہ ہمارا میگا ایونٹ ہے۔ہم 35ویں نیشنل گیمز کو یادگار لمحے میں بدل دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی کھیلوں نیشنل گیمز
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔