کراچی سے اربوں روپے کا ریونیو حاصل کرنے کا ایک اور منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی سے اربوں روپے کا ریونیو حاصل کرنے کا ایک اور منصوبہ بنالیا گیا، ادارہ ترقیات کراچی نے غیر اعلانیہ ٹارگیٹیڈ کارروائیوں کی تیاریاں مکمل کرلیں، تبدیلی استعمال اراضی پر شہر کے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا، افسران نے شہر میں بڑی کارروائی کیلیے نوٹسز کا ڈرافٹ تیار کرنا شروع کردیا، مس یوز آف پلاٹس پر شروع کی جانے والی کارروائیوں کے لیے افسران نے تیاری کرلی ہے، ممبر ایڈ منسٹریشن کی نگرانی میں نوٹسز کا ڈرافٹ اور آپریشن کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی نے شہر قائد میں تبدیلی استعمال اراضی (مس یوز آف پلاٹس) پر غیر اعلانیہ طور پر بڑی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے افسران نے مذکورہ کارروائیوں کو مبینہ طور پر غیر اعلانیہ طور پر ٹارگیٹیڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کے ڈی اے کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے ایک سابق ریٹائرڈ ڈائریکٹر مس یوز آف پلاٹ کے نوٹسز جاری کرکے شہر سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے بٹور کر روانہ ہوچکے ہیں، اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تین سال قبل گورننگ باڈی سے اس سلسلے میں منظوری لی گئی تھی اور اس کے بعد سے افسران مذکورہ منظور کیے گئے گورننگ باڈی کے فیصلے کو مبینہ طور پر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایک مرتبہ پھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ اعلانیہ کارروائی کے بجائے ٹارگیٹیڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں کراچی کے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے اور ان کی بحالی کے لیے بھاری جرمانہ وصول کیا جانا شامل ہے،کے ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ ٹارگیٹیڈ آپریشن کے باعث ادارے کو ریونیو حاصل ہونے کے بجائے مذکورہ ریونیو بدعنوانیوں کی نذر ہونے کا خطرہ ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ منسوخ شدہ پلاٹوں کی بحالی سے حاصل ریونیو کے لیے کے ڈی اے میں کوئی اکائونٹ بھی نہیں کھولا جاسکا ہے جس سے واضح ہوسکے کہ اس مد میں کتنی آمدنی ادارے کو حاصل ہوسکی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی کی منظوری سے اس حوالے سے تین ماہ قبل یکم اگست 2025ء کو ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا مذکورہ سرکلر جاری کرکے مبینہ طور پر فائلوں میں محفوظ کرلیا گیا ہے اور ادارے کے متعدد اہم افسران بھی جاری کیے گئے سرکلر سے لاعلم بتائے جاتے ہیں۔سرکلر کے مطابق مس یوز آف پلاٹس پر الاٹمنٹ منسوخ کی جائے گی جبکہ اس کی بحالی کے لیے 100 روپے کے اسٹیمپ پیپر پردوبارہ مس یوز آف پلاٹ نہ کرنے کا حلف نامہ جمع کرانا ہوگا جبکہ بحالی کے چارجز بھی ادا کرنا ہونگے جس کیلیے 6 مختلف کیٹیگریز بنائی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر اعلانیہ کہنا ہے کہ مس یوز ا ف ذرائع کا کے ڈی اے کرنے کا کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔
ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔
یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔