Jasarat News:
2026-07-24@01:45:37 GMT

کراچی سے اربوں روپے کا ریونیو حاصل کرنے کا ایک اور منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی سے اربوں روپے کا ریونیو حاصل کرنے کا ایک اور منصوبہ بنالیا گیا، ادارہ ترقیات کراچی نے غیر اعلانیہ ٹارگیٹیڈ کارروائیوں کی تیاریاں مکمل کرلیں، تبدیلی استعمال اراضی پر شہر کے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا، افسران نے شہر میں بڑی کارروائی کیلیے نوٹسز کا ڈرافٹ تیار کرنا شروع کردیا، مس یوز آف پلاٹس پر شروع کی جانے والی کارروائیوں کے لیے افسران نے تیاری کرلی ہے، ممبر ایڈ منسٹریشن کی نگرانی میں نوٹسز کا ڈرافٹ اور آپریشن کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی نے شہر قائد میں تبدیلی استعمال اراضی (مس یوز آف پلاٹس) پر غیر اعلانیہ طور پر بڑی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے افسران نے مذکورہ کارروائیوں کو مبینہ طور پر غیر اعلانیہ طور پر ٹارگیٹیڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کے ڈی اے کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے ایک سابق ریٹائرڈ ڈائریکٹر مس یوز آف پلاٹ کے نوٹسز جاری کرکے شہر سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے بٹور کر روانہ ہوچکے ہیں، اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تین سال قبل گورننگ باڈی سے اس سلسلے میں منظوری لی گئی تھی اور اس کے بعد سے افسران مذکورہ منظور کیے گئے گورننگ باڈی کے فیصلے کو مبینہ طور پر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایک مرتبہ پھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ اعلانیہ کارروائی کے بجائے ٹارگیٹیڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں کراچی کے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے اور ان کی بحالی کے لیے بھاری جرمانہ وصول کیا جانا شامل ہے،کے ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ ٹارگیٹیڈ آپریشن کے باعث ادارے کو ریونیو حاصل ہونے کے بجائے مذکورہ ریونیو بدعنوانیوں کی نذر ہونے کا خطرہ ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ منسوخ شدہ پلاٹوں کی بحالی سے حاصل ریونیو کے لیے کے ڈی اے میں کوئی اکائونٹ بھی نہیں کھولا جاسکا ہے جس سے واضح ہوسکے کہ اس مد میں کتنی آمدنی ادارے کو حاصل ہوسکی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی کی منظوری سے اس حوالے سے تین ماہ قبل یکم اگست 2025ء کو ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا مذکورہ سرکلر جاری کرکے مبینہ طور پر فائلوں میں محفوظ کرلیا گیا ہے اور ادارے کے متعدد اہم افسران بھی جاری کیے گئے سرکلر سے لاعلم بتائے جاتے ہیں۔سرکلر کے مطابق مس یوز آف پلاٹس پر الاٹمنٹ منسوخ کی جائے گی جبکہ اس کی بحالی کے لیے 100 روپے کے اسٹیمپ پیپر پردوبارہ مس یوز آف پلاٹ نہ کرنے کا حلف نامہ جمع کرانا ہوگا جبکہ بحالی کے چارجز بھی ادا کرنا ہونگے جس کیلیے 6 مختلف کیٹیگریز بنائی گئی ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غیر اعلانیہ کہنا ہے کہ مس یوز ا ف ذرائع کا کے ڈی اے کرنے کا کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا