مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر پھر دلہا بننے کو تیار، دلہن کون ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے بیٹے جنید صفدر کا رشتہ دوبارہ طے ہوگیا ہے، جنید صفدر کا نکاح مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شیخ روحیل اصغر کی پوتی سے طے ہوا ہے۔ خاتون شیخ روحیل اصغر کے صاحبزادے علی روحیل اصغر کی صاحبزادی ہیں۔
دونوں خاندان شادی کی تقریبات دسمبر کے آخری ہفتے یا جنوری کے آغاز میں منعقد کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ شادی کی تمام روایتی رسومات اور تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاہم امکان یہی ہے کہ تمام تقریبات محدود پیمانے پر ہوں گی اور صرف قریبی عزیز و اقارب ہی مدعو کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا رشتہ طے ہوگیا
شریف خاندان اور شیخ روحیل اصغر کے خاندان کی جانب سے باقاعدہ ایک خصوصی ایونٹ بھی منعقد کیا جا چکا ہے جس میں دونوں خاندانوں کے قریبی افراد نے شرکت کی۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی کی حتمی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں بھی خبریں آئی تھیں کہ جنید صفدر کا رشتہ دوبارہ طے ہوگیا ہے جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی عزیزوں میں طے ہوا ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ جیند صفدر کی شادی نواز شریف کے رشتہ دار کی پوتی سے ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عائشہ اور میری طلاق ہو گئی، جنید صفدر کی تصدیق
جنید صفدر اور عائشہ کا نکاح اگست 2021 میں لندن کے لینزبرا ہوٹل میں ہوا تھا، ان کی شادی کی تقریبات پاکستان میں ہوئی تھیں۔ اکتوبر 2023 میں جوڑے نے طلاق لے لی تھی۔ جنید صفدر کی سابقہ اہلیہ عائشہ معروف بزنس مین سیف الرحمان کی صاحبزادی ہیں جو ان دنوں قطر میں مقیم ہیں۔
سیف الرحمان اور شریف خاندان کے تعلقات کی تو دونوں خاندانوں کے درمیان بڑے قریبی تعلقات ہیں، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں سیف الرحمان کو قومی احتساب بیورو (نیب) کا چیئرمین بھی مقرر کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنید صفدر جنید صفدر شادی مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز جنید صفدر کا روحیل اصغر مریم نواز شادی کی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔