قبول ہے سے سات پھیرے تک؛ سارہ خان کی کرش پاٹھک سے دوسری شادی، تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی مقبول اداکارہ سارہ خان نے کرش پاٹھک سے دوسری شادی کرلی جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اکتوبر میں دونوں کی کورٹ میرج ہوئی تھی جس کے بعد دسمبر میں باقاعدہ شادی کی تقریبات منعقد کی گئیں اور اس موقع پر خوبصورت تصاویر لی گئیں۔
نوبیاہتا جوڑے نے اپنی دلکش شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ سارہ اور کرش نے شادی کی تقریبات میں ہندو رسومات کے ساتھ نکاح کی تقریب بھی رکھی۔
نوبیاہتا جوڑے نے ہندو رسومات کے لیے سرخ روایتی ملبوسات کا انتخاب کیا جبکہ نکاح کی تقریب میں سفید چمکدار لباس نے ان کی جوڑی کو نہایت خوبصورت انداز بخشا۔
جوڑے نے تصاویر کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ قبول ہے سے سات پھیرے تک، ہماری محبت نے خود اپنی کہانی لکھی اور دونوں جہانوں نے ہاں کہہ دی۔
سارہ خان نے شادی کے بعد ریسپشن کی تصاویر بھی جاری کیں جن میں وہ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ خوشگوار موڈ میں نظر آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ سارہ خان کی یہ دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل وہ اداکار علی مرچنٹ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک تھیں، تاہم ایک سال بعد ہی دونوں کے درمیان میں طلاق ہو گئی تھی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے ساتھ
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔