کے پی حکومت سے ترقی یافتہ ممالک جیسا گُڈ گوَرننس ماڈل اپنانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
درخواست میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی چیز کی کمی نہیں لیکن یہاں پر گُڈ گورننس کا فقدان ہے۔ فنڈز کا بروقت اور صحیح استعمال نہ کرنے سے خیبرپختونخوا ترقی منصوبوں سے محروم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ میں درخواست حماد ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی چیز کی کمی نہیں لیکن یہاں پر گُڈ گورننس کا فقدان ہے۔ فنڈز کا بروقت اور صحیح استعمال نہ کرنے سے خیبرپختونخوا ترقی منصوبوں سے محروم ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام ٹرانسپورٹ، تعلیم، خوراک، صحت، رہائش سمیت دیگر سہولیات سے محروم ہے جبکہ گُڈ گورننس کے فقدان کے باعث معیشت اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک کے طرز پر گُڈ گورننس کا ماڈل اپنایا جائے۔ بہترین ریفارمز لاکر لوگوں کو آسانیاں پیدا کی جائے۔ مزید برآں کاروبار کے فروغ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے اور شفافیت لانے اور گُڈ گورننس کو بہتر بنانے سمیت کرپشن کے روک تھام کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گ ڈ گورننس
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔