ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ کاروباری دنیا نہیں ہے کہ دو میں سے ایک مائنس کرو تو ایک رہ جائے گا، اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، خان صاحب کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، "Enough is enough"۔
انہوں نے کہا کہ خان صاحب سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں ہے جو ملاقاتوں کے لیے آتا ہے اس پر واٹر کینن کا استعمال کیا جاتا ہے، اگر وہ دو گھنٹے تک اور بیٹھے رہتے تو ملک اور قوم کا کیا نقصان ہو جاتا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ یہ بہانہ لگا رہے ہیں کہ خان کی ٹویٹ کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو رہی، کیا بشریٰ بی بی کی فیملی پریس کانفرنسز کر رہی ہے ان کی ملاقاتیں کیوں نہیں کروا رہے؟۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا لیکن پھر ایسا ہوگا جو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوگا، ہم سسٹم کا حصہ اس لیے ہیں تاکہ ملک میں جمہوریت برقرار رہے، ہم اس وقت تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی ہے، آپ اس مرتبہ فیڈریشن کے یونٹس کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں، آپ پی ٹی آئی پر کیا بین لگانے جا رہے ہیں؟، ابھی تک تو اپ نے سرٹیفیکیٹ ہی نہیں قبول کیا، اگر یہی حالات رہے تو مہینے میں بھی حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے کنٹرول میں نہیں ایک مائنس نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔