خیبرپختونخوامیں سیکورٹی فورسز کی 2کارروائیاں،13 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی(نمائندہ جسارت ) خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند اور بنوں میں سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دو مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی فنتہ الخوارج کے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 12 اور13 دسمبر 2025 کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فورسز کی دو علیحدہ کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 خوارج ہلاک ہو گئے۔ بیان میں کہاگیا کہ خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر ضلع مہمند میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا اور آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 7 خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع بنوں میں کیا گیا جہاں سیکورٹی فورسز نے مزید 6 خوارج کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ہلاک کر دیا۔بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی میں موجود خوارج کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری بھرپور مہم ‘‘عزم استحکام’’ کے وڑن کے تحت پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے دوران
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔