حکومت چاہتی ہے پوری اپوزیشن مذاکرات میں بیٹھے لیکن پی ٹی آئی نے خود کو مذاکرات سے علیٰحدہ کرلیا، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے پوری اپوزیشن مذاکرات میں بیٹھے لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خود کو مذاکرات سے علیٰحدہ کرلیا۔
’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام’’ نیا پاکستان ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ ہمارا خیال ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنی رضامندی سے وزیراعظم کوآگاہ کرے گی، وزیراعظم نے اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دی ہے۔ تحریک انصاف نے مذاکرات سےخود کوعلیٰحدہ کرلیا ہے، تحریک انصاف نے کہا کہ وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے اور ان کا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔
تائیوان میں شدید زلزلے کے جھٹکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں
ان کا کہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ بیٹھنے کا عندیہ نہیں دیا، یہ صورتحال حوصلہ افزا نہیں وزیراعظم خود ہی اس کا جواب دیں گے۔ہماری خواہش ہوگی کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں حصہ لے اور ہماری مذاکراتی کمیٹی میں پیپلزپارٹی سمیت حکومت کےتمام اتحادی شامل ہونگے۔
دوسری جانب’’ نیا پاکستان ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ تمام ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصرعباس کوسونپی گئی ہے، محمود اچکزئی جوبھی فیصلہ کریں گے تحریک انصاف اس کو تسلیم کرے گی ۔ ہم غیرمشروط مذاکرات نہیں کریں گے، مذاکرات کیلئے ہماری شرائط میں نئے انتخابات کرانا شامل ہے، نئے الیکشن کمشنرکےتحت عام انتخابات کرانا، بانی پی ٹی آئی تک پارٹی رہنماؤں، خاندان کی رسائی بھی ہمارے شرائط میں شامل ہے۔ اگران شرائط پرعمل کیلئے حکومت تیار ہے تو ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں، حکومت سے بات ہوگی تو ان نکات پرہوگی۔
وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عادل راجہ پر پابندی عائد کردی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مذاکرات میں تحریک انصاف مذاکرات سے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔