Express News:
2026-06-03@02:00:19 GMT

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

طلاق بظاہر چار حرفی لفظ ہے لیکن یہ اپنے اندر منفی بعض حالات میں تباہ کن اثرات رکھتا ہے۔ طلاق میں جہاں میاں بیوی کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی زندگی متاثر ہوتی ہے، وہاں اس کی زد میں آنے والے خاندان بھی تکلیف اور اذیت سے گزرتے ہیں، بالخصوص بچے جس کرب اور اذیت سے دوچار ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہے وہ اپنے ناکردہ جرم کی سزا ساری زندگی بھگتتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں یہ عمل نہ صرف ناپسندیدہ بلکہ گالی تصورکیا جاتا تھا، بدقسمتی سے موجودہ دور میں اس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو افسوس ناک بات ہے یہ ایک نہایت توجہ طلب مسئلہ ہے، ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آئیے! اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ طلاقیں کیوں ہوتی ہیں؟ اس کی شرح میں اضافے کے اسباب کیا ہیں اور اس کا تدارک کیسے کریں۔ ہماری مشرقی روایات میں مرد کی حکمرانی کا تصور عام ہے، مغربی تہذیب کے اثرات کے باعث مساوات زن کا تصور عام ہوا، لہٰذا ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کی ایک دوسرے پر حکمرانی اور بالادستی کی جنگ بعض اوقات تنازعات کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جس کا نتیجہ آخرکار طلاق کی صورت میں آتا ہے۔

شادی کی ناکامی کے اہم محرکات میں ایک اہم محرک مشترکہ خاندانی نظام ہے جو میاں بیوی کے مابین لڑائی جھگڑے کی بنیاد بنتا ہے۔ ساس اور نندوں کے روز روز کے باہمی جھگڑے حالات میں اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ وہ اسے طلاق کی آخری حد تک ہی پہنچا کر دم لیتے ہیں۔

جہاں شوہر کے گھر والے میاں اور بیوی کے معاملات میں بے جا مداخلت کرکے مسائل پیدا کرتے ہیں وہاں بیوی کے گھر والے بھی ہم کسی سے کم نہیں کا نعرہ لگا کر میاں اور بیوی کے معاملات میں بے جا مداخلت اور بیٹی کی پشت پناہی کر کے مسائل پیدا کرتے ہیں جس کا نتیجہ آخرکار طلاق کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔

طلاق کے پیچھے کارفرما عوامل میں گھریلو تشدد ایک ایسا عنصر ہے جو طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث رہا ہے۔ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں مرد اپنی جسمانی ساخت کی بنیاد پر صنف نازک پر تشدد کرتا ہے تو عورت ردعمل میں زبان درازی کرتی ہے نتیجے میں مرد مزید مشتعل ہو جاتا ہے اور عورت کو زبان دراز قرار دے کر اسے طلاق دے دیتا ہے اس طرح یہ دائمی رشتہ چند لمحوں میں ختم ہو جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں عورتیں معاشی طور پر مردوں پر انحصارکرتی ہیں، سماج میں مرد کے بغیر عورت کا زندگی گزارنا محال ہوتا ہے، یہ صورت حال عورت کو مجبور کرتی ہے کہ وہ نامناسب حالات میں بھی شادی کے بندھن سے بندھی رہے۔

موجودہ دور میں سماجی اقدار بدل گئی ہیں، عورت معاشی عمل میں حصہ دار بن جاتی ہے جب اسے ازدواجی زندگی میں مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ خود کو آسانی سے شادی کے بندھن سے آزاد کر لیتی ہے جس کے باعث طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

موجودہ دور میں ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کی بدولت روزمرہ کی ضروریات کا پورا ہونا محال ہے۔ جب عورت مرد سے گھر کی ضروریات کی تکمیل کے لیے تقاضا کرتی ہے تو مرد کا اسے پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا، یہ صورت حال دونوں میں محاذ آرائی بعض اوقات گھریلو جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اگر اس کے ساتھ دیگر گھریلو مسائل بھی شامل ہو جائیں تو بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے جو علیحدگی کا باعث بن جاتی ہے۔

انسان کی ذہنی سوچ، مزاج اور دلچسپیاں انسانی عمر کے تابع ہوتی ہیں عمومی طور پر یکساں عمر رکھنے والے جوڑے ایک دوسرے کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ذمے داریوں کو بہتر انداز میں نبھا سکتے ہیں لیکن جن گھرانوں میں شادی کے وقت عمر کے واضح فرق کو نظر انداز کیا جاتا ہے، وہاں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ایک قدرتی امر ہے، اس کے نتیجے میں بعض شادیاں ناکامی سے دوچار ہو جاتی ہیں۔

کم عمری میں جو شادیاں کی جاتی ہیں وہ ابتدائی مراحل میں بھی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں، کیونکہ یہ کسی بھی صورت میں ذمے داریاں سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتیں، اس لیے شادی مناسب عمر میں ہی کی جانی چاہیے۔

بعض مرد حضرات جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں وہ شادی کو سماجی ذمے داری سمجھنے کے بجائے اس فریضے کو جنسی (سیکس) کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، ایسے افراد جب شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے تھوڑے عرصے بعد ہی اپنے جیون ساتھی سے جلد اکتا جاتے ہیں اور نئے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں، ان کی یہ منفی سوچ فریقین کے مابین علیحدگی کا باعث بن جاتی ہے۔

وٹہ سٹہ یا بدلے کی شادیوں کا رواج بھی طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث بنتا ہے، یہ شادیاں زیادہ مستحکم نہیں ہوتیں، مسائل جنم لینے کی صورت میں دونوں خاندان طلاق کے خوف یا طلاق کے دباؤ کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔

طلاق کسی بھی جانب سے دی جائے وہ دونوں خاندانوں کو تباہ کر دیتی ہے، زندگی میں زمین و جائیداد کی وراثت کے حوالے سے انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے بعض خاندان اس بات کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ زمین اور جائیداد غیر خاندان میں منتقل نہ ہو وہ اس مفاد پرست سوچ کے تحت اپنے بچوں کی شادیاں خاندان میں ہی طے کرتے ہیں۔

ان شادیوں میں بچوں کی پسند اور ناپسند اور ان کے مابین عمروں کے فرق، ذہنی ہم آہنگی کے اہم عنصر کو نظراندازکردیا جاتا ہے، ظاہر ہے ایسی شادیوں کا تادیر چلنا مشکل ہوتا ہے جو شادیوں میں ناکامی کا سبب بنتا ہے۔

یہی مسائل برادری میں شادیاں کرنے کے رجحان کے تحت بھی پیدا ہوتے ہیں یہ جبری شادیاں بھی ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔شادی میں ناکامی اور طلاق کی شرح میں اضافے کے دیگر عوامل میں جسمانی امراض بالخصوص نامردی، عورت کا بانجھ پن، بیٹوں کی پیدائش کا نہ ہونا، مرد یا عورت کا نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونا، مرد یا عورت کا اپنے ذاتی مشاغل میں مصروف عمل ہونا بالخصوص موجودہ دور میں میڈیا کا غلط استعمال بالخصوص اس کے ذریعے غیر رسمی دوستیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ایسے عوامل ہیں جن سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا تدارک کیسے کریں؟ اس کا بہتر جواب تو سماجی علوم کے ماہر ہی دے سکتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں انسان کی تصوراتی زندگی اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے، اختلاف رائے اور تضادات معاشرے کا لازمی جز ہیں، اس سے فرار ممکن نہیں، اس لیے شادی کے وقت انسان کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں اور شادی کے بعد بند کر لینی چاہئیں، یعنی اسے آخر وقت تک نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے، طلاق صرف اسی صورت میں ہی دی جانی چاہیے یا لی جانی چاہیے جب وہ ناگزیر ہو۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی شرح میں اضافے طلاق کی شرح میں ہوتی ہیں ہوتے ہیں شادی کے ہوتا ہے کا باعث بیوی کے جاتا ہے عورت کا جاتی ہے کی صورت میں ہی ہیں وہ رہا ہے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟