data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملکی سیاست کے جسم میں ضد، انا اور طاقت کی مداخلت و کشمکش کی جو رسولی کم و بیش سات دہائیوں سے موجود ہے، وہ آج ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آج تک حقیقی جمہوریت جڑ نہیں پکڑ سکی اور عوام کے بنیادی سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ اس مرض کی اصل وجہ غیر جمہوری اور غیر آئینی مداخلتیں ہیں، جنہوں نے سیاست کو آزادانہ ارتقا کا موقع ہی نہیں دیا۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور، ادارے متنازع اور عوام بداعتماد ہوتے چلے گئے۔چند روز قبل بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش منایا گیا۔ ہر حکومت، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، یہ دعویٰ ضرور کرتی ہے کہ وہ قائد کے افکار اور فرمودات کے مطابق فیصلے کر رہی ہے، مگر عملی صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ سیاست میں برداشت، رواداری، مکالمہ اور عوامی خدمت کا جو تصور قائداعظم نے دیا تھا، وہ ہمیں کسی بھی دورِ حکومت میں مکمل طور پر نظر نہیں آیا۔ اقتدار میں آنے والی ہر جماعت نے اقتدار کو اپنا حق ِ مطلق سمجھا اور تنقید کو جرم بنا دیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ ایوب خان سے لے کر آج تک، مختلف شکلوں میں سیاسی آوازوں کو دبایا جاتا رہا ہے۔ آج بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ موجودہ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے، مگر اس کی مرکزی قیادت جیلوں میں ہے، جبکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس کے لیے فعال سیاسی کردار ادا کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ حکومت مذاکرات کی بات تو کرتی ہے، مگر عملاً اس کے پاس مذاکرات کے لیے درکار سیاسی اختیار اور مینڈیٹ دکھائی نہیں دیتا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی اور مطالبات، جیسے مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات، نئے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر اور شفاف انتخابات، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اپوزیشن اب بھی سیاسی حل کی گنجائش تلاش کر رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ خود تحریک انصاف کے اندر سے آنے والے متضاد بیانات نے مذاکراتی عمل کو کمزور کیا ہے ایسا لگتا ہے کچھ لوگ اِدھر اُدھر سے ہدایات لے رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے بھی 9 مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ یوں ضد اور انا نے مفاہمت کی ہر کوشش کو یرغمال بنا لیا ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات اس لیے خراب نہیں ہو رہے کہ سیاست آزاد نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس بند گلی کے ذمے دار صرف ایک فریق نہیں۔ سیاست دان بھی اس صورتِ حال کے مجرم ہیں جنہوں نے اقتدار کے لیے اصول قربان کیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ جب تک سیاست کو اس کے فطری بہاؤ کے ساتھ چلنے نہیں دیا جائے گا، بہتری ممکن نہیں ہو سکتی۔ عسکری اور دیگر طاقتور اداروں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اچھی یا بری سیاست کرنے کا حق سیاست دانوں ہی کو ہونا چاہیے۔ جبر بڑھتا ہے تو خرابیاں بھی بڑھتی ہیں، اور اس جبر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ نوجوان نسل سیاست سے مایوس اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے حالیہ اعلامیے میں قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام پر زور دیا گیا ہے، اور اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ سیاسی ہوں یا کوئی اور عناصر، کسی کو قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ پیغام اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی عمل کو آئینی حدود میں مکمل آزادی دی جائے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب اختلافِ رائے اور سیاست کو دبایا گیا، تو اس کے نتائج ہمیشہ قومی نقصان کی صورت میں نکلے ہیں۔ ملک اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ معاشی بحالی، داخلی سلامتی اور سماجی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اہداف کسی ایک ادارے یا طبقے کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے اجتماعی قومی عزم، برداشت، اور ایک دوسرے کو سیاسی طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست باقی رہتی ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں یہ اصول اگر واقعی تسلیم کر لیا جائے تو آدھے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو جبر سے آزاد کیا جائے، اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے، اور نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا مستقبل اسی ملک میں محفوظ ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ ذاتی، جماعتی اور ادارہ جاتی مفادات سے بلند ہو کر آئین، قانون اور عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ اگر واقعی پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہے تو ہمیں ضد اور انا نہیں، بلکہ عقل، تدبر اور مفاہمت کو اپنا راستہ بنانا ہوگا اور یہی قومی مفاد ہے، یہی بقا کی ضمانت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
پاکستان کی انڈر-18 ہاکی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصر میں منعقد ہونے والے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کے لیے باقاعدہ کوالیفائی کرلیا ہے۔
اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی جگہ بنالی ہے جہاں اس کا مقابلہ 25 تاریخ کو روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔
قومی جونیئر ٹیم نے پورے ایونٹ کے دوران بہترین ڈسپلن، جارحانہ کھیل اور بہترین حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔
پورے ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک رسائی اور ورلڈکپ کا ٹکٹ حاصل کرنا پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈر-18 ہاکی ٹیم کی یہ کامیابی قوم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں نے جس محنت اور جذبے کے ساتھ میدان میں گرین شرٹس کی نمائندگی کی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ مصر ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرنا ہماری جونیئر ہاکی ڈیویلپمنٹ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔
ترجمان پی ایچ ایف نے قوم سے اپیل ہے کہ 25 تاریخ کو بھارت کے خلاف فائنل معرکے کے لیے ٹیم کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی، ڈیویلپمنٹ کمیٹی، چیف سلیکٹر اور کوچنگ اسٹاف نے تمام کھلاڑیوں اور قوم کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم فائنل بھی جیت کر ملک کا نام روشن کرے گی۔