حقیقت ِ کرسمس اور مسلمان کا فکری امتحان
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دسمبر کا مہینہ آتے ہی دنیا کے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک ایک مخصوص فضا قائم ہو جاتی ہے۔ روشنیوں سے سجے بازار، تحائف سے بھرے شوکیس، کرسمس ٹریز اور چرچوں کی گھنٹیاں ایک ایسے تہوار کی خبر دیتی ہیں جو اب محض مذہبی نہیں رہا بلکہ عالمی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ میڈیا اسے محبت، امن اور خیرسگالی کا پیغام قرار دیتا ہے، جبکہ کارپوریٹ دنیا اسے ایک منافع بخش جشن میں بدل دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر خوشی واقعی بے ضرر ہوتی ہے؟ اور کیا ہر تہوار میں شریک ہونا محض سماجی عمل ہے، یا بعض مواقع پر یہ عقیدے کا امتحان بھی بن جاتا ہے؟ ایک مسلمان کے لیے کرسمس محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک فکری چوراہا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ تہذیبی دباؤ کے ساتھ بہے گا یا اپنی توحیدی شناخت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
کرسمس: خوشی یا عقیدہ؟ عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ کرسمس صرف خوشی بانٹنے کا دن ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں گہری ہے۔ کرسمس دراصل عیسائی عقیدے کے مطابق سیدنا عیسیٰؑ نعوذباللہ کی ولادت کا دن ہے، اور یہ ولادت ’’خدا کے بیٹے‘‘ کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام اور عیسائیت کے درمیان بنیادی اور ناقابل ِ مصالحت فکری اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اسلام کی اساس توحید پر ہے۔ توحید محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام ہے، جو اللہ کی ذات، صفات اور اختیارات کو ہر قسم کی شراکت سے پاک قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید اللہ کے لیے اولاد کے تصور کو نہ صرف رد کرتا ہے بلکہ اسے ایک ایسی بات قرار دیتا ہے جس پر کائنات لرز اٹھتی ہے: ’’اور انہوں نے کہا کہ رحمن نے بیٹا بنا لیا ہے۔ تم بہت ہی بھاری بات لے آئے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر پڑیں، اس بات پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے بیٹے کا دعویٰ کیا‘‘۔ (سورہ مریم: 88–91)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ محض مذہبی اختلاف کا نہیں بلکہ شرک اور توحید کے درمیان فیصلہ کن لکیر کا ہے۔ سیدنا عیسیٰؑ: احترام بھی، حد بھی یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ اسلام سیدنا عیسیٰؑ کا انکار نہیں کرتا، بلکہ: انہیں اللہ کا جلیل القدر نبی مانتا ہے۔ ان کی ولادت کو معجزہ تسلیم کرتا ہے، اور سیدہ مریمؑ کو دنیا کی عظیم ترین پاکیزہ خواتین میں شمار کرتا ہے۔ اسلام اور عیسائیت کا فرق سیدنا عیسیٰؑ کی ذات پر نہیں، بلکہ ان کی حیثیت پر ہے۔ اسلام انہیں بندۂ خدا مانتا ہے، خدا یا خدا کا بیٹا نہیں۔ یہی فرق معمولی نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد ہے۔
25 دسمبر: تاریخ یا روایت؟ یہ ایک دلچسپ اور کم بیان کی جانے والی حقیقت ہے کہ سیدنا عیسیٰؑ کی ولادت کی تاریخ خود انجیل میں بھی متعین نہیں۔ بائبل میں کہیں بھی یہ ذکر موجود نہیں کہ وہ 25 دسمبر کو پیدا ہوئے۔ اس کے برعکس، انجیل میں موجود بعض اشارے اس تاریخ کو مشکوک بنا دیتے ہیں: چرواہوں کا رات کے وقت کھلے میدانوں میں موجود ہونا مویشیوں کا چراگاہوں میں ہونا فلسطین کے موسمی حالات کے مطابق یہ منظرنامہ موسمِ سرما کے بجائے موسمِ بہار یا گرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود عیسائی محققین کی ایک بڑی تعداد 25 دسمبر کو محض علامتی تاریخ تسلیم کرتی ہے، تاریخی نہیں۔
سورج پرستی سے کرسمس تک: تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ 25 دسمبر صدیوں تک ایک مشرکانہ تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا۔ قدیم رومی تہذیب میں یہ دن Sol Invictus یعنی ’’ناقابل ِ شکست سورج‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ یہ دن سرمائی انقلاب (Winter Solstice) کے فوراً بعد آتا ہے، جب دن لمبے ہونا شروع ہوتے ہیں۔ سورج پرست اقوام اسے روشنی کی فتح اور تاریکی کی شکست کی علامت سمجھتی تھیں۔ فارسی، یونانی اور دیگر قدیم تہذیبوں میں بھی اس تاریخ کو مذہبی تقدس حاصل تھا۔ یوں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ 25 دسمبر کا اصل تعلق سیدنا عیسیٰؑ سے نہیں بلکہ قدیم مشرکانہ روایات سے جا ملتا ہے۔
کرسمس کیسے مسیحی تہوار بنا؟ جب عیسائیت کو رومی سلطنت کی سرپرستی حاصل ہوئی اور اسے عوامی مذہب بنانا مقصود ہوا تو چرچ کو ایک بڑا چیلنج درپیش تھا: عوام اپنی پرانی مذہبی رسوم اور تہوار چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ: قدیم مشرکانہ تہواروں کو مسیحی نام دے دیا جائے۔ تاکہ لوگ مذہب بدلیں، مگر تہوار نہ چھوڑیں۔ یوں چھٹی صدی عیسوی میں 25 دسمبر کو سیدنا عیسیٰؑ کی ولادت سے منسوب کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ نہ کسی وحی پر مبنی تھا اور نہ کسی مستند تاریخی شہادت پر، بلکہ ایک سیاسی اور تہذیبی حکمت ِ عملی کا حصہ تھا۔
مسلمان کے لیے اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ عیسائی کرسمس کیوں مناتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ: کیا ایک مسلمان اپنی توحیدی شناخت کے ساتھ اس تہوار میں شریک ہو سکتا ہے؟ اکثر اہل ِ علم کا موقف واضح ہے کہ ایسے تہوار کی مبارکباد دینا جو شرکیہ عقیدے پر مبنی ہو، اس عقیدے کی ضمنی تائید شمار ہوتی ہے لہٰذا یہ عمل دینی اعتبار سے درست نہیں البتہ اسلام ہمیں غیرمسلموں کے ساتھ نفرت، بدسلوکی یا تحقیر کی اجازت نہیں دیتا۔ حسنِ سلوک، عدل اور اخلاق اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں، مگر عقیدے میں سمجھوتا کیے بغیر۔
تہذیبی دباؤ اور فکری غفلت: آج کرسمس ایک مذہبی دن سے بڑھ کر؛ ایک عالمی ثقافتی مظہر، ایک کارپوریٹ تہوار اور میڈیا کا مستقل بیانیہ بن چکا ہے اسی دباؤ کے تحت بہت سے مسلمان لاشعوری طور پر سجاوٹ میں شریک ہو جاتے ہیں، مبارکباد کے پیغامات بھیج دیتے ہیں اور یہ سب ’’بس خوشی‘‘ کے نام پر کرتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں فکری غفلت ایمان کو کمزور کرتی ہے۔ مسلمان کے لیے عملی راستہ، علمی آگاہی، نئی نسل کو کرسمس کی تاریخی اور عقیدتی حقیقت سے روشناس کرایا جائے۔ غیر مسلموں کے ساتھ عمومی انسانی احترام اور حسنِ سلوک برقرار رکھا جائے۔ اپنے اسلامی تہواروں اور شعائر کو فخر اور خوشی کے ساتھ منایا جائے۔ موقع ملے تو سیدنا عیسیٰؑ کے حقیقی اسلامی تصور کو نرمی سے بیان کیا جائے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ کرسمس دراصل ایک دن نہیں، ایک فکری آئینہ ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم: اپنی توحید کو کتنا سمجھتے ہیں اپنی شناخت پر کتنے ثابت قدم ہیں اور تہذیبی دباؤ کے سامنے کہاں کھڑے ہیں اسلام ہمیں سیدنا عیسیٰؑ کا احترام سکھاتا ہے، مگر شرک کے سامنے جھکنا نہیں۔ آج جب شناختیں مٹائی جا رہی ہیں اور عقائد کو ’’ذاتی معاملہ‘‘ بنا دیا گیا ہے، توحید پر قائم رہنا ہی سب سے بڑا اخلاقی اور فکری اعلان ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عقیدہ صرف عبادت کا نام نہیں، یہ انسان کی پوری زندگی کی سمت متعین کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کی ولادت کے ساتھ کرتا ہے کے لیے فکری ا
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔