سجل علی نے اپنی شادی سے متعلق خبروں پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
سجل علی اور حمزہ سہیل پاکستان کے مقبول اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی شاندار اداکاری کی بدولت ناظرین کے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہیں۔
سجل علی نے او رنگریزہ، گلِ رانا، چپ رہو، یقین کا سفر، یہ دل میرا، آنگن، دھوپ کی دیوار، کچھ ان کہی، صنفِ آہن اور میں منٹو نہیں ہوں جیسے یادگار ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
دوسری جانب حمزہ سہیل کو فیری ٹیل سیزن 1 اور 2، زرد پتوں کا بن، برنس روڈ کے رومیو جولیٹ اور دل والی گلی میں، جیسے کامیاب ڈرامہ سیریلز کی وجہ سے شہرت ملی۔
دونوں اداکاروں کو سب سے پہلے ’زرد پتوں کا بن‘ میں ایک ساتھ دیکھا گیا، جہاں ان کی آن اسکرین کیمسٹری کو مداحوں نے بے حد سراہا۔
بعد ازاں دل والی گلی میں میں ان کی جوڑی ایک بار پھر سامنے آئی، جس کے بعد فینز کی جانب سے دونوں کو ایک ساتھ پسند کیا جانے لگا۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر مختلف انسٹاگرام پیجز کی جانب سے یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ سجل علی اور حمزہ سہیل 2026 کے آغاز میں شادی کرنے جا رہے ہیں اور ان کی شادی کی تیاریاں جاری ہیں۔
اگرچہ دونوں نے کبھی اپنے تعلقات کو عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا، مگر مداح اس افواہ پر بے حد خوش دکھائی دے رہے ہیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔
تاہم سجل علی نے ان خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں واضح کیا کہ ان کی زندگی سے متعلق کوئی بھی خبر جب بھی ہوگی، وہ خود ہی بتائیں گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سجل علی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔