نیول اکیڈمی: مڈ شپ مین اور شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-08-12
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان نیول اکیڈمی میں 124 ویں مڈ شپ مین اور 32ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں ملکی و غیر ملکی معزز شخصیات، اعلیٰ بحری افسران اور کیڈٹس کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔ کراچی میں ہونے والی اس پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر رائل بحرین نیول فورس ریئر ایڈمرل احمد محمد ابراہیم آل بن علی تھے، جن کا استقبال سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کیا۔پریڈ کے آغاز پر کیڈٹس نے سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف کو سلامی دی، جبکہ مہمانِ خصوصی ریئر ایڈمرل احمد محمد ابراہیم آل بن علی نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ پریڈ کے دوران کیڈٹس نے بھرپور نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری تربیت کا عملی مظاہرہ کیا۔تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے گئے۔ مڈ شپ مین شہاب احمد کو اکیڈمی ڈرک سے نوازا گیا جبکہ مجموعی طور پر بہترین کارکردگی پر مڈ شپ مین محمد عزیز عباس کو اعزازی شمشیر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔