قلات میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی، چار ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
کوئٹہ:
سیکیورٹی فورسز نے قلات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 27 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، ویژن “عزمِ استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔