علم، توحید اور مکالمے کی تاریخی فتح
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-03-7
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
(سچائی کا وہ آئینہ جب اسکرین کے اسکرپٹ رائٹر کے سامنے کائنات کے اسکرپٹ رائٹر کا علم کھل کر سامنے آیا)
یہ وہ لمحہ تھا جب فلمی دنیا کی چکا چوند اور سلیبریٹی کی جادوگری، قرآن، منطق اور فلسفہ کے اصولوں کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ ہندوستان کی سرزمین پر ہونے والا یہ مکالمہ محض دو شخصیات کے تصادم کی کہانی نہیں، بلکہ دو متوازی نظریاتی کائناتوں کا تقابل تھا۔ ایک طرف فلمی اور لٹریچر کی دنیا کا شہنشاہ، جاوید اختر، جس نے الفاظ اور مکالمات کے جادو سے کروڑوں دلوں کو مسحور کیا، اور دوسری طرف وہ مردِ قلندر، مفتی شمائل ندوی، جس کے پاس قرآن، فلسفہ اور منطق کے ہتھیار تھے۔ یہ تاریخی ملاقات اس بات کی روشن مثال ہے کہ علم، عقلیت اور حقیقت کی طاقت، کسی بھی باطل کی چرب زبانی، شہرت اور اورا کے سامنے عاجز ہو جاتی ہے۔
۱۔ توحید بمقابلہ سلیبریٹی اورا: نفسیاتی منظرنامہ: جاوید اختر کوئی عام ملحد یا دانشور نہیں ہیں۔ وہ ایک سلیبریٹی دانشور ہیں، جس کے ہر لکھے ہوئے مکالمے پر کروڑوں لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ اس کی شخصیت کا رعب، اورا، اور میڈیا میں شہرت اکثر عام اسکالرز کو مرعوب کر دیتی ہے۔ لیکن مفتی شمائل ندوی یہاں ایک مستحکم چٹان کی مانند کھڑے نظر آئے۔ ان کے دل میں یہ یقین راسخ تھا کہ عزت و ذلت، حیات و موت، سب اسی ربّ کے ہاتھ میں ہے جس کے لیے دلیل پیش کی جا رہی ہے۔ یہی وہ توحیدی طاقت ہے جو کسی بھی انسانی رعب کو کمزور کر دیتی ہے۔ مفتی صاحب نے جاوید اختر کی انا کو چیلنج کرنے کے بجائے، ان کے علمی موقف کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ یہ پہلی نفسیاتی فتح تھی: سکون، وقار اور علم کے ساتھ باطل کی شان و شوکت کو معمولی ثابت کر دینا۔
۲۔ سقراطی طریقہ: سوال کے ذریعے دلیل کا جال: اکثر ملحدین کے ساتھ براہِ راست دلیل میں الجھنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ مفتی شمائل نے سقراطی طریقہ اپنایا: جواب دینے کے بجائے سوالات اٹھا کر مخاطب کی علمی کمزوری کو اُجاگر کیا۔ جب جاوید اختر نے کہا: ’’میں خدا کو نہیں مانتا کیونکہ مجھے اس کا علم نہیں یا نظر نہیں آتا‘‘، مفتی صاحب نے فلسفیانہ اور منطقی زاویہ اختیار کیا: ’’کیا کسی چیز کا علم نہ ہونا، اس کے وجود نہ ہونے کا ثبوت ہے؟‘‘ یہ نقطہ ٔ نظر، علمیات (Epistemology) کے بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے: نہ جاننا، لاعلمی کا ثبوت ہے، وجود کا نہیں۔ مثال کے طور پر، اندھا شخص سورج کو دیکھنے سے قاصر ہے، لیکن اس سے سورج کا وجود ختم نہیں ہوتا۔ مفتی صاحب نے بڑے نرم لہجے میں یہ واضح کیا کہ جاوید اختر کا انکار، ذاتی سمجھ اور محدود مشاہدے کی بنیاد پر ہے، جو بذاتِ خود ایک غیر سائنسی رویہ ہے۔
۳۔ مسئلہ خیر و شر: فلسفیانہ اور منطق پر مبنی جواب: جاوید اختر نے آخری حربے کے طور پر مسئلہ خیر و شر پیش کیا کہ اگر خدا ہے تو دنیا میں دکھ کیوں ہیں؟ یہ دلیل اکثر جذباتی بنیاد پر دی جاتی ہے، منطق پر نہیں۔ مفتی شمائل نے اسے فلسفیانہ زاویہ سے واضح کیا کہ شر کا وجود خدا کے نہ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ انسان کی آزاد مرضی (Free Will) اور اس کی ذمے داری کی دلیل ہے۔ دنیا ایک امتحانی میدان ہے، نہ کہ صرف آرام اور راحت کا مقام۔ اگر ہر چیز آسان ہوتی، تو زندگی کا مقصد اور انسان کا کردار ختم ہو جاتا۔ یہ وضاحت، بالی وڈ کے اسکرپٹ کے اصول سے بھی ہم آہنگ تھی: ہر کہانی میں مشکل اور ولن ہونا ضروری ہے تاکہ ہیرو کے کردار اور سفر کو مکمل کیا جا سکے۔
۴۔ طنز اور استہزاء کا جواب: مسکراہٹ اور وقار کی حکمت: جاوید اختر کے طنز، استہزاء اور مذہب کو دقیقانوسی ثابت کرنے کی کوششوں کے باوجود، مفتی شمائل نے صبر، وقار اور دلیل کے ساتھ ہر موقف کو رد کیا۔ بدتمیزی کے جواب میں دلیل، طنز کے جواب میں مسکراہٹ یہی وہ حکمت تھی جس نے مکالمے کی طاقت کو واضح کر دیا۔ یہ بات ثابت کر گئی کہ مسلمان جذباتی یا جنونی نہیں ہوتا، بلکہ وہ جس کے پاس حقیقت اور علم کی بصیرت ہو، وہ سکون اور وقار کے ساتھ حق کو پیش کر سکتا ہے۔
۵۔ خلاصہ اور عملی سبق: یہ مکالمہ ہمارے لیے ایک روشن اور عملی کلاسک کیس اسٹڈی ہے: علم اصل طاقت ہے: منطق، فلسفہ اور توحید کے علم سے بڑے سے بڑے ملحد کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
اسلوب کی اہمیت: بات کرنے کا انداز اور شائستگی دلیل کے برابر، اور کبھی کبھار دلیل سے بھی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
مرعوبیت سے نجات: نام اور شہرت کے باوجود، ہر انسان برابر ہے۔ علم اور حقیقت کی طاقت مستقل اور حتمی ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے جاوید اختر کو محض شکست نہیں دی، بلکہ اسے بے نقاب کیا کہ جب اسکرین کا اسکرپٹ رائٹر، کائنات کے اسکرپٹ رائٹر (اللہ) کے سامنے بیٹھتا ہے، تو اس کے پاس صرف لاعلمی رہ جاتی ہے۔
فتح علم، وقار اور حق کی ہے: یہ تاریخی مکالمہ ہمیں ایک سچا سبق سکھاتا ہے کہ حقیقی فتح کبھی طاقت، شہرت یا رعب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ علم، وقار اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے سے ملتی ہے۔ مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان یہ تصادم، دراصل ایک سائنسی، فلسفیانہ اور روحانی تجربہ تھا، جس نے واضح کر دیا کہ جب انسان اپنے دل و دماغ کو علم، منطق اور توحید کی روشنی سے منور کرتا ہے، تو دنیا کے سب سے بڑے باطل بھی بے نقاب ہو جاتے ہیں۔
جاوید اختر جیسے عظیم فنی ہنر مند، جنہیں کروڑوں دلوں کی شہرت اور الفاظ کے سحر نے جادوگر بنایا، جب ایک سادہ مگر مستحکم اور حق پر مبنی موقف کے سامنے آئے، تو ان کا علمی اور فلسفیانہ دفاع لرز گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہرت کا اورا، چرب زبانی، اور معاشرتی رتبہ، حقیقی علم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔
یہ مکالمہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حق کو پیش کرنے کا انداز بھی اہم ہے۔ علم اگر زور و شور، غصے یا جارحانہ رویے کے ساتھ پیش کیا جائے تو اثر محدود رہتا ہے، لیکن جب دلیل، وقار، شائستگی اور حسنِ سلوک کے ساتھ پیش کی جائے تو دلوں اور دماغوں میں گہرائی تک اثر ڈالتی ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے طنز کو مسکراہٹ، بدتمیزی کو دلیل اور سوالات کو فلسفیانہ منطق کے ساتھ جواب دے کر یہ عملی ثبوت دیا کہ مکالمے کی طاقت مناظرے کی جارحیت سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ یہ ملاقات ہمیں ایک اہم فکری سبق بھی دیتی ہے کہ علم اور حقیقت کے راستے میں کسی بھی انسان کی شہرت یا طاقت حائل نہیں ہو سکتی۔ جاوید اختر جیسے زیرک اور بافطانت لوگ بھی اس علم کے سامنے عاجز ہو گئے، کیونکہ انہوں نے حقیقت کے اس آئینے کو نہ سمجھا جو مفتی شمائل کے دل و دماغ میں جھلک رہا تھا۔ مزید برآں، یہ مکالمہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی مشکلات، دکھ اور آزمائشیں، کسی بھی فلسفے یا عقیدے کے لیے رکاوٹ نہیں، بلکہ انسان کے فہم، شعور اور روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ مفتی صاحب نے نہ صرف اس علمی مسئلے کو فلسفیانہ اور منطقی زاویے سے واضح کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ انسانی عقل اور توحید کی روشنی میں دنیا کی ہر مشکل اور ہر سوال کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں، یہ تاریخی مکالمہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مناظرے اور جھگڑوں کی دنیا کے بجائے مکالمہ، دلیل اور وقار کا راستہ اختیار کرنا ہی حقیقی فتح ہے۔ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ حق کو پیش کرنے والا علم، منطق، توحید اور اخلاقیات سے مزین ہو۔ یہ درس ہمیں نہ صرف علمی و فلسفیانہ بصیرت دیتا ہے بلکہ ایک طرزِ زندگی کی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے، جس میں ہر نوجوان، ہر طالب علم اور ہر مسلمان علم، وقار اور حق کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اخلاقیات، شائستگی، مہذب مکالمات، دلائل، علم اور حق کی روشنی کو اپنا ہتھیار بنالیں۔ تو یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف دل و دماغ جیتتا ہے بلکہ روحانی سکون اور حقیقی کامیابی کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مفتی شمائل ندوی اسکرپٹ رائٹر مفتی صاحب نے جاوید اختر کے اسکرپٹ یہ مکالمہ کے سامنے وقار اور اور منطق علم اور کرتا ہے کسی بھی کی طاقت سکتا ہے نہیں ہو میں یہ کیا جا کیا کہ کا علم پیش کی اور حق
پڑھیں:
اسلامی اقدار اور جدید دور
آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔