محکمہ جنگلات اورمحکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی، 7ہزار پرندے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-11-8
محراب پور(جسارت نیوز)محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف نوشہرو فیروز کی کارروائی،غیر قانونی شکار کردہ 7 ہزار پرندے برآمد، کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی، 5 نامزد، 10 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ داخل، محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف انسپکٹر غلام مرتضیٰ خشک کے مطابق خفیہ اطلاع پر گاڑی نمبر جی ایس ایچ 595 کو پکڑ کر اس کی تلاشی میں غیرقانونی شکار کردہ تیتر، بٹیرسمیت 7 ہزار پرندے برآمد کیے ہیں ، یہ پرندے مچھلی کے نام پر بک کراکر غیر قانونی طور پر خانیوال اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں لیے جائے جارہے تھے، پرندوں کے اس غیر قانونی شکار اور کاروبار میں ملوث عبدالرشید کھوسو، موسیٰ ملاح، مرتضیٰ ملاح، عرفان ملاح اور یاسین چنہ سمیت بین الصوبائی گروہ کے دس نامعلوم اراکین کیخلاف مقدمہ نمبر 1 سال 2025 درج کیا ہے، تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے پرندوں کے شکاری کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا، ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی میں گاڑی اور پرندوں سمیت گرفتار افراد کو مک مکا بعد چھوڑا گیا ہے، مذکورہ گروہ کافی عرصہ سے غیرقانونی شکار اور پرندوں کی پنجاب سپلائی میں ملوث ہے، حالیہ کارروائی دکھانے کیلئے کی گئی ہے جسکا ثبوت پورے سال میں داخل ہونے والا یہ پہلا مقدمہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔