پیپلز پارٹی کی جانب سے مفاہمت کی سیاست پر زور، کیا یہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کا اشارہ ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سابق وزیراعظم پاکستان شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے، اور یہ کام صدر زرداری ہی کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو کا آخری پیغام مفاہمت تھا، مفاہمت کی کامیابی کے لیے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا، 9 مئی جیسے حملے اور اداروں کو گالیاں دینا سیاست کے دائرے میں نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: ایک بیوقوف آدمی نے ساری دنیا سے تعلقات خراب کردیے تھے، آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید
اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہاکہ بی بی کی شہادت ہمیں تقسیم کرنے کا دن تھا مگر میں نے بے نظیر کی روح جو کہہ رہی تھی اُس کے مطابق پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے دونوں مرکزی رہنماؤں کی جانب سے یہ بیانات کیا پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک پیغام تھا کہ وہ احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر مفاہمت کی سیاست کریں یا ان بیانات کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طاقت اور اختیارات کی کوئی کشمکش ہے؟ اس سلسلے میں ہم نے سیاسی ماہرین سے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف بھی مفاہمت چاہتی ہے: احمد بلال محبوبپاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے جو باتیں صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے کی ہیں یہ وزیراعظم کی اُس پیش کش کا تسلسل نظر آتی ہیں جو اُنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دے کر کی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں نے یہ سوچا سمجھا ایک مؤقف اپنایا ہے اور پاکستان تحریک اِنصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بھی ایک طرح سے حکومت کی پیش کش پر مثبت ردعمل دیا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کرے گی۔
احمد بلال محبوب نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اس سلسلے میں ابتدائی قدم تو اُٹھا لیا ہے اب دوسرے قدم کے طور پر اُنہیں سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ مخالف پروپیگنڈا بند کر دینا چاہیے جس سے بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ حکومت ان مذاکرات میں براہِ راست عمران خان کو انگیج تو نہیں کرے گی لیکن پی ٹی آئی کی باہر موجود قیادت سے مذاکرات ہوں گے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں سب ٹھیک نہیں، طاہر خلیلسینیئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خلیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جو مفاہمت اور مذاکرات کی باتیں کی ہیں، ظاہر ہے مذاکرات کا ایک ہی فریق ہے اور وہ پی ٹی آئی ہے، لیکن پیپلز پارٹی کا حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنا ایک ٹول ہے اور اس کا ایک پس منظر ہے۔
’وہ پس منظر یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ ابھی متحدہ عرب امارت کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے تو صدرِ مملکت کی اُن سے ملاقات نہیں ہوئی جس کو محسوس کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے پہلی بار محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر ایک وفد گڑھی خدا بخش بھیجا جس میں رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔‘
انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے اس طرح کا سیاسی وفد کبھی بھی نہیں بھیجا گیا۔ اب وہاں پر کیا بات چیت ہوئی یہ بھی سامنے آ جائے گی لیکن بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح سے کہاکہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بہت بڑے بڑے فیصلے کیے ہیں تو یہ ایک اشارہ تھا کہ اب وہ 28ویں ترمیم کا بوجھ نہیں اُٹھا پائیں گے۔
طاہر خلیل نے کہاکہ پیپلز پارٹی ممکنہ 28 ویں ترمیم کے حوالے سے تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے، وہ حکومت سے کہہ رہی ہے کہ اُس کے ایم این ایز کو بھی حکومتی ایم این ایز کی طرح سے ترقیاتی فنڈز دیے جائیں۔
’پیپلزپارٹی کو نئے صوبوں سمیت دیگر معاملات پر تحفظات ہیں‘انہوں نے کہاکہ دوسرا جو کہا گیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے گا، اُس پر پیپلز پارٹی کے تحفظات ہیں اور تیسرا نئے صوبوں کی بات پر بھی پیپلز پارٹی کو اتفاق نہیں۔
’اس لیے پیپلز پارٹی ایک طرف مفاہمت اور مذاکرات کے حق میں بیانات دے کر پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے تو دوسری طرف حکومت کو اُن مذاکرات کے لیے تیار ہونے پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے۔‘
مزید پڑھیں: بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسہ: 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاسی دائرے میں نہیں آتا، بلاول بھٹو
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا پنجاب میں بہت بڑا ووٹ بینک ہے۔ پیپلز پارٹی نے جو مفاہمت اور مذاکرات کی بات کی ہے وہ پی ٹی آئی ووٹر کو خوش کرنے کے لیے کی ہے اور ساتھ ہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ حکومت ان مذاکرات میں جائے اور اُس پر دباؤ مزید بڑھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آصف زرداری بلاول بھٹو پی ٹی آئی پیپلز پارٹی عمران خان مفاہمتی سیاست وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو پی ٹی ا ئی پیپلز پارٹی مفاہمتی سیاست وی نیوز پاکستان تحریک انصاف پاکستان تحریک ا انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو مفاہمت کی پی ٹی ا ئی چاہتی ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔