سابق وزیراعظم پاکستان شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے، اور یہ کام صدر زرداری ہی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو کا آخری پیغام مفاہمت تھا، مفاہمت کی کامیابی کے لیے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا، 9 مئی جیسے حملے اور اداروں کو گالیاں دینا سیاست کے دائرے میں نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: ایک بیوقوف آدمی نے ساری دنیا سے تعلقات خراب کردیے تھے، آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید

اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہاکہ بی بی کی شہادت ہمیں تقسیم کرنے کا دن تھا مگر میں نے بے نظیر کی روح جو کہہ رہی تھی اُس کے مطابق پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے دونوں مرکزی رہنماؤں کی جانب سے یہ بیانات کیا پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک پیغام تھا کہ وہ احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر مفاہمت کی سیاست کریں یا ان بیانات کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طاقت اور اختیارات کی کوئی کشمکش ہے؟ اس سلسلے میں ہم نے سیاسی ماہرین سے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف بھی مفاہمت چاہتی ہے: احمد بلال محبوب

پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے جو باتیں صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے کی ہیں یہ وزیراعظم کی اُس پیش کش کا تسلسل نظر آتی ہیں جو اُنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دے کر کی تھیں۔

انہوں نے کہاکہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں نے یہ سوچا سمجھا ایک مؤقف اپنایا ہے اور پاکستان تحریک اِنصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بھی ایک طرح سے حکومت کی پیش کش پر مثبت ردعمل دیا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کرے گی۔

احمد بلال محبوب نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اس سلسلے میں ابتدائی قدم تو اُٹھا لیا ہے اب دوسرے قدم کے طور پر اُنہیں سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ مخالف پروپیگنڈا بند کر دینا چاہیے جس سے بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت ان مذاکرات میں براہِ راست عمران خان کو انگیج تو نہیں کرے گی لیکن پی ٹی آئی کی باہر موجود قیادت سے مذاکرات ہوں گے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں سب ٹھیک نہیں، طاہر خلیل

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خلیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جو مفاہمت اور مذاکرات کی باتیں کی ہیں، ظاہر ہے مذاکرات کا ایک ہی فریق ہے اور وہ پی ٹی آئی ہے، لیکن پیپلز پارٹی کا حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنا ایک ٹول ہے اور اس کا ایک پس منظر ہے۔

’وہ پس منظر یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ ابھی متحدہ عرب امارت کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے تو صدرِ مملکت کی اُن سے ملاقات نہیں ہوئی جس کو محسوس کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے پہلی بار محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر ایک وفد گڑھی خدا بخش بھیجا جس میں رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔‘

انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے اس طرح کا سیاسی وفد کبھی بھی نہیں بھیجا گیا۔ اب وہاں پر کیا بات چیت ہوئی یہ بھی سامنے آ جائے گی لیکن بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح سے کہاکہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بہت بڑے بڑے فیصلے کیے ہیں تو یہ ایک اشارہ تھا کہ اب وہ 28ویں ترمیم کا بوجھ نہیں اُٹھا پائیں گے۔

طاہر خلیل نے کہاکہ پیپلز پارٹی ممکنہ 28 ویں ترمیم کے حوالے سے تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے، وہ حکومت سے کہہ رہی ہے کہ اُس کے ایم این ایز کو بھی حکومتی ایم این ایز کی طرح سے ترقیاتی فنڈز دیے جائیں۔

’پیپلزپارٹی کو نئے صوبوں سمیت دیگر معاملات پر تحفظات ہیں‘

انہوں نے کہاکہ دوسرا جو کہا گیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے گا، اُس پر پیپلز پارٹی کے تحفظات ہیں اور تیسرا نئے صوبوں کی بات پر بھی پیپلز پارٹی کو اتفاق نہیں۔

’اس لیے پیپلز پارٹی ایک طرف مفاہمت اور مذاکرات کے حق میں بیانات دے کر پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے تو دوسری طرف حکومت کو اُن مذاکرات کے لیے تیار ہونے پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے۔‘

مزید پڑھیں: بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسہ: 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاسی دائرے میں نہیں آتا، بلاول بھٹو

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا پنجاب میں بہت بڑا ووٹ بینک ہے۔ پیپلز پارٹی نے جو مفاہمت اور مذاکرات کی بات کی ہے وہ پی ٹی آئی ووٹر کو خوش کرنے کے لیے کی ہے اور ساتھ ہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ حکومت ان مذاکرات میں جائے اور اُس پر دباؤ مزید بڑھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آصف زرداری بلاول بھٹو پی ٹی آئی پیپلز پارٹی عمران خان مفاہمتی سیاست وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو پی ٹی ا ئی پیپلز پارٹی مفاہمتی سیاست وی نیوز پاکستان تحریک انصاف پاکستان تحریک ا انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو مفاہمت کی پی ٹی ا ئی چاہتی ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو