گوادر کی مغربی خلیج میں ڈولفنز کی واپسی، ماحولیاتی توازن کی علامت
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
موسمی سمندری مظہر کے باعث سمندر کے غیر معمولی سبز رنگ اختیار کرنے کے باوجود گوادر کے ساحلی پانی بدستور آبی حیات سے بھرپور ہیں، جہاں حال ہی میں بندرگاہی شہر کی مغربی خلیج میں بوٹل نوز ڈولفنز کے جھنڈ دیکھے گئے ہیں۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ یعنی ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نوکٹیلوکا بلوم موسمِ سرما میں رونما ہونے والا ایک سمندری عمل ہے، جو پاکستان کے ساحلوں پر سمندری پانی کے بڑے پیمانے پر سبز رنگ اختیار کرنے کا سبب بنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ کیفیت کراچی سے جیوانی تک ساحلی علاقوں میں دیکھی جا رہی ہے اور ایران کے ساحلی پانیوں تک بھی پھیل چکی ہے۔
خوراک کی تلاش میں ڈولفن مچھلیوں نے گوادر کے ساحل کا رخ کرلیا
ڈولفن مچھلیوں کاجھنڈکوہ مہدی کے علاقے میں دیکھا گیا pic.
— Asif Kareem Khetran (@AsifKareemTweet) December 28, 2025
اس سمندری بلوم کے نتیجے میں متعدد علاقوں، خصوصاً گوادر کے اطراف، سمندری پانی گہرے سبز رنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
گہرے سبز پانی کے باوجود گوادر کا سمندر آبی حیات سے بھرپور ہے، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق اس قدرتی مظہر نے ماہی گیری کی سرگرمیوں کو متاثر نہیں کیا۔
مقامی ماہی گیر امیر داد خان نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران بلوچستان کے ساحل کے ساتھ جھینگوں کے شکار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جھینگے معمول سے بڑے سائز کے ہیں، جو سمندری حالات کے مستحکم ہونے کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں:
بلوچستان کے ڈائریکٹر میرین فشریز احمد ندیم نے بھی گوادر کی مغربی خلیج میں ڈولفنز کی بڑی تعداد دیکھے جانے کی تصدیق کی ہے۔
صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے وضاحت کی کہ سمندر میں رنگ کی تبدیلی جیسے مظاہر عموماً غیر زہریلے ہوتے ہیں اور اکثر آبی حیات کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوکٹیلوکا بلوم صرف انتہائی صورتوں میں آبی حیات کی اموات کا باعث بنتا ہے۔
مزید پڑھیں:
یہ کیفیت، جسے بلوچی زبان میں مقامی طور پر ’بد آب‘ کہا جاتا ہے، بحیرۂ عرب میں وقفے وقفے سے ظاہر ہوتی رہتی ہے اور موسمِ سرما میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔‘
تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماہی گیری کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور ماہی گیر بلا تعطل اپنے روزمرہ کام انجام دے رہے ہیں۔
محمد معظم خان کے مطابق گوادر کی مغربی خلیج میں بوٹل نوز ڈولفنز کی موجودگی ایک حوصلہ افزا علامت ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سمندر کے سبز ہونے کی کیفیت نے علاقے کی سمندری حیاتیاتی تنوع کو منفی طور پر متاثر نہیں کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران بحیرہ عرب بلوچستان بلوم بوٹل نوز حیاتیاتی تنوع خلیج ڈبلیو ڈبلیو ایف ڈولفن گوادر ماہی گیر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران بلوچستان بلوم بوٹل نوز حیاتیاتی تنوع خلیج ڈبلیو ڈبلیو ایف ڈولفن گوادر ماہی گیر کی مغربی خلیج میں ڈبلیو ڈبلیو ایف آبی حیات کے مطابق
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔