سوڈان میں انسانی بحران شدید، تین دن میں 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے باعث صرف تین دنوں کے دوران دس ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
یہ صورتحال شمالی دارفور اور جنوبی کردفان کی ریاستوں میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔
اقوام متحدہ سے وابستہ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کے مطابق شمالی دارفور کے شہروں ام برو اور کرنوی سے سات ہزار سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جن پر حالیہ دنوں میں آر ایس ایف نے قبضہ کر لیا تھا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی کردفان میں بھی حالات انتہائی سنگین ہیں، جہاں کادوقلی شہر سے تین ہزار سے زائد افراد فرار ہو گئے۔ یہ شہر اس وقت فوج کے کنٹرول میں ہے جبکہ آر ایس ایف نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیںپاکستان کی سوڈان میں عالمی امن اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت
سوڈان کا فوجی طیارہ ہنگامی لینڈنگ کی کوشش میں گر کر تباہ؛ تمام افراد ہلاک
سوڈان میں اسپتال اور پرائمری اسکول پر حملہ؛ 66 بچوں سمیت 114 افراد جاں بحق
اسی دوران جنوبی کردفان کے علاقے ابو جبیہہ میں آگ لگنے کے باعث بے گھر افراد کی کم از کم 45 عارضی پناہ گاہیں جل کر تباہ ہو گئیں، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق آر ایس ایف نے حالیہ دنوں میں شمالی دارفور کے شہروں ابو قمرہ اور ام برو پر قبضے کا اعلان کیا ہے، جبکہ فورسز سوڈان کی شمال مغربی سرحد کے قریب دیگر علاقوں کی جانب بھی پیش قدمی کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ سوڈان کی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 سے جاری جنگ کے باعث اب تک ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد ملک کے اندر اور باہر بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق یہ بحران اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM سے زائد افراد اقوام متحدہ آر ایس ایف سوڈان میں کے مطابق بے گھر
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔