پاکستان کی دفاعی صلاحیت سے دنیا میں اہمیت بحال، بھارت پیچھے رہ گیا:عالمی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی) عالمی جریدے کیرولائنا پولیٹیکل ریویو نے پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کی بہترین حکمت عملی کا اعتراف کیا ہے۔ جریدے کے مطابق 2025 میں پاکستان نے عالمی سیاست میں دوبارہ اہم مقام حاصل کیا، مئی میں پاک بھارت کشیدگی نے پاکستانی دفاعی صلاحیت اور ساکھ کو مضبوط کیا۔ پاکستان نے کشیدگی کے دوران موثر سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن کا اعتماد بحال کر کے تعلقات کو نئی سمت دی۔عالمی جریدے کے مطابق جنوبی ایشیا، خلیج اور وسط ایشیا تک رسائی میں کلیدی پل قرار دے کر امریکا نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو مرکزی حیثیت دی۔ پاکستان منفرد طور پر جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کے درمیان سنگم پر موجود ہے۔کیرولائنا پولیٹیکل ریویو کے مطابق پاکستانی بندرگاہیں خاص طور پر بلوچستان میں گوادر بہت بڑا اثاثہ ہے، گوادر سمیت ساحلی پٹی کی اسٹریٹجک قدر بڑھنے سے بندرگاہی اور معدنی تعاون کے نئے امکانات سامنے آئے جبکہ پاکستان نے سی پیک کے ساتھ ساتھ کثیر الجہتی توازن برقرار رکھ کر قومی مفاد کی بنیاد پر نئے معاشی راستے کھولے۔ نومبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی شائع کی جس میں دنیا میں امریکہ کے کردار اور مفادات پر روشنی ڈالی گئی، پاکستان ان قومی سلامتی کے مفادات کے حصول کے لیے امریکا کا کلیدی اتحادی ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ تبدیلی نے دنیا بھر کے میڈیا کی سرخیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔کیرولائنا پولیٹیکل ریویو کے مطابق بھارت پاکستان کشیدگی میں شدت بڑھنے پر امریکا کو ڈی ایسکلیشن کے لیے فعال کردار اختیار کرنا پڑا جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر پر بات چیت کی گنجائش کا بیان پاکستان کی سفارتی پوزیشننگ اور موقف کی تائید ہے۔عالمی جریدے کے مطابق پاکستان نے سفارتی محاذ پر نفسیاتی برتری حاصل کر کے واشنگٹن میں مثبت فضا قائم کی جبکہ بھارت پیچھے رہ گیا۔ لابنگ اور پالیسی انگیجمنٹ کے ذریعے تعلقات کو وار آن ٹیرر کے فریم سے نکال کر اکانومی اور اسٹریٹجی کی طرف موڑا گیا۔کیرولائنا پولیٹیکل ریویو کے مطابق پاکستان اور امریکا نے نایاب زمینی معدنیات سے لے کر ریفائننگ اور پروسیسنگ کے لیے 500 ملین ڈالر کے شراکت داری فریم ورک کے کئی سودے کیے۔ معدنیات اور ریئر ارتھ تعاون کے فریم ورک کا ذکر دوطرفہ تعلقات کی عملی بنیاد کے طور پر سامنے آیا۔عالمی جریدے کے مطابق ایگزم بینک نے صوبہ بلوچستان میں ریکوڈک میں کان کنی اور اہم معدنیات کے لیے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جریدے کے مطابق عالمی جریدے پاکستان نے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔