data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وسطی امریکا کے ملک گوئٹے مالا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایک ایسی حیران کن دریافت ہوئی ہے جس نے قدیم ماین تہذیب کی سماجی اور ثقافتی زندگی کے ایک نئے پہلو کو اجاگر کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق قدیم شہر ناچٹن میں ہونے والی تازہ کھدائیوں کے دوران ایک منفرد اور پراسرار بورڈ گیم کی باقیات سامنے آئی ہیں، جسے ماہرین لوڈو سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف ماین تہذیب کی تفریحی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ اس دور کے سماجی میل جول اور رسومات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والا یہ کھیل دراصل ’پیٹولی‘ کہلاتا ہے، جو قدیم زمانے میں جنوبی اور شمالی امریکا کے مختلف خطوں میں کھیلا جاتا تھا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھیل ایزٹک اور ابتدائی میسو امیریکن معاشروں میں خاصی مقبولیت رکھتا تھا اور اس میں شرط یا جُوا بھی شامل ہوتا تھا۔

پیٹولی کا بورڈ عموماً کراس کی شکل میں ترتیب دیا جاتا تھا، جس میں 52 خانے ہوتے تھے، اور اسے کپڑے یا زمین پر بنایا جاتا تھا۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس کھیل میں ’پیٹول بینز‘ استعمال کیے جاتے تھے، جو خاص قسم کے بیج ہوتے تھے اور ایک جانب نقطہ بنا ہوتا تھا۔ انہیں پانسوں کی طرح اچھالا جاتا اور اسی بنیاد پر کھلاڑی اپنی چال چلتے تھے۔ اگرچہ اس کھیل کے بنیادی اصول دیگر تہذیبوں میں کسی حد تک محفوظ ہیں، تاہم ماہرین اب تک اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ ماین معاشروں میں پیٹولی کو کن خاص قواعد کے تحت کھیلا جاتا تھا اور آیا اس میں مذہبی یا رسمی پہلو بھی شامل تھے یا نہیں۔

ناچٹن میں سامنے آنے والی تازہ دریافتوں نے اس کھیل کی تاریخی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے زمین پر کندہ کیا ہوا ایک قدیم بورڈ دریافت کیا ہے جو چھوٹے، سرخ رنگ کے موزائک ٹائلز سے تیار کیا گیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائلز ممکنہ طور پر ٹوٹے ہوئے سرامک برتنوں کے ٹکڑوں سے بنائی گئی تھیں، جو اس دور کے وسائل کے تخلیقی استعمال کو ظاہر کرتی ہیں۔ ابتدائی تجزیے کے مطابق اس بورڈ کا تعلق چوتھی صدی عیسوی سے جوڑا جا رہا ہے، جو اسے انتہائی قدیم اور قیمتی تاریخی ورثہ بناتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دریافتیں قدیم ماین معاشروں کی روزمرہ زندگی کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے تھے بلکہ سماجی تعلقات، طاقت کے اظہار اور بعض اوقات مذہبی عقائد سے بھی جڑے ہوتے تھے۔ پیٹولی جیسے کھیل ممکنہ طور پر مختلف طبقات کے درمیان میل جول، مقابلے اور حتیٰ کہ سیاسی اثر و رسوخ کا ذریعہ بھی رہے ہوں گے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس دریافت کو ماین تہذیب کے سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق اور کھدائیوں کے ذریعے اس بات کا امکان ہے کہ اس کھیل کے قواعد، اس کے استعمال کے مواقع اور اس کی علامتی اہمیت کے بارے میں مزید شواہد سامنے آئیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ماین تہذیب جاتا تھا ہوتے تھے اس کھیل اور اس

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان