آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے نو تعینات جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا جس سے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد مکمل ہو گئی۔چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے جسٹس خالد یوسف چودھری سے حلف لیا، حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر میں منعقد ہوئی۔حلف برداری تقریب میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان، چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین، ہائیکورٹ کے جسٹس خالد رشید چوہدری، سابق سینئر جج سپریم کورٹ خواجہ محمد نسیم، سابق جج سپریم کورٹ غلام مصطفی مغل، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ صداقت حسین راجہ، چیئرمین سروس ٹریبونل، چیئرمین انوائرمنٹل ٹریبونل، وائس چیئرمین بار کونسل طارق بشیر، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد خان، سیکرٹری سپریم کورٹ بار ، صدر ہائی کورٹ بار راجہ وسیم یونس، سیکرٹری ہائیکورٹ بار، صدر سینٹرل بار سید انیس الحسن گیلانی، بار کونسل اور آزاد کشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران و نمائندگان، سیکرٹریز حکومت سمیت وکلاء نے نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، سیکرٹری قانون آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر ارشاد احمد قریشی نے خالد یوسف چودھری کی بطور جج سپریم کورٹ تعیناتی کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا، جسٹس خالد یوسف چودھری اس سے قبل جج ہائی کورٹ بھی رہ چکے ہیں اور سپریم کورٹ تعیناتی کے وقت وہ بطور کسٹوڈین جائیداد متروکہ فرائض انجام دے رہے تھے۔جسٹس خالد یوسف چودھری نے 1995 میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کر کے اسی سال بطور وکیل میرپور میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے مطابق آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ تین ججز کے بعد مکمل ہو جاتی ہے، تین ججز میں چیف جسٹس ، ایک سینئر اور ایک جج شامل ہوتا ہے۔آزاد جموں و کشمیر میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لئے حکومت آزاد جموں و کشمیر سینئر وکلا پر مشتمل پینل وزیراعظم پاکستان و چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل کو بھیجتی ہے جو بھیجئے گئے وکلا کے پینل میں سے سینئر وکیل کی بطور جج تعیناتی کی منظوری دے کر ایڈوائس واپس حکومت آزاد جموں و کشمیر کو بھیج دیتے ہیں، اس کے بعد حکومت آزاد جموں و کشمیر کا محکمہ قانون چیئرمین کشمیر کونسل کی طرف بھیجے گئے نام کی بطور جج تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔