جی بی کے معدنی ذخائر سے فائدہ لینے کیلئے وفاقی حکومت تعاون کرے، نگران وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے کہا کہ معدنی وسائل کے حصول کیلئے مقامی کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے تاکہ مقامی کمیونٹی مکمل تعاون کرنے کیلئے آمدہ ہو سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے محکمہ معدنیات، انڈسٹریز اور کامرس کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں بے پناہ قدرتی معدنیات کے وسائل موجود ہیں، لیکن ان معدنیات کا تفصیلی جیالوجیکل سروے اور میپ موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے حقیقی معدنی ذخائر تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گلگت بلتستان، وفاقی حکومت کے تعاون کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے تاکہ گلگت بلتستان میں موجود معدنیات کے حوالے سے تفصیلی اور مکمل آگاہی حاصل ہو۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے سائنٹفک سروے لازمی ہے جس کے بغیر بین الاقوامی سرمایہ کار معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت مائننگ لائسنس کے حصول کے عمل کو آن لائن کرنا خوش آئند ہے جس سے اس عمل میں شفافیت آئے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معدنی وسائل کے حصول کیلئے مقامی کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے تاکہ مقامی کمیونٹی مکمل تعاون کرنے کیلئے آمدہ ہو سکیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے چائلڈ اینڈ لیبر پالیسی پر من و عن عملدرآمد کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ہمارے نوجوان نسل کو تعلیم حاصل کرنے کا مواقع میسر آئیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انڈسٹریل اور سپیشل اکنامک زون کے قیام کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کو گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری پر راغب کیا جا سکے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دینے سے گلگت بلتستان میں روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کیلئے پاک چائنہ بارڈر پر ٹیکس میں دی گئی چھوٹ سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے محکمہ فوری طورپر اقدامات کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں نگران وزیر اعلی مقامی کمیونٹی کرنے کیلئے نے کہا کہ کرنے کی
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔