وزیراعلیٰ کے پی سے رکن اسمبلی عائشہ نذیر کی ملاقات‘دورہ پنجاب کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بورے والا(صباح نیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ایم این اے عائشہ نذیر جٹ کی ملاقات، 3روزہ دورہ پنجاب پر خیرمقدم۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، پارٹی تنظیم سازی اور پنجاب میں تحریک انصاف کو مزید منظم و متحرک کرنے کے امور پرتبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ایم این اے عائشہ نذیر جٹ اور صوبائی ٹکٹ ہولڈر عارفہ نذیر جٹ نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا میں شفاف طرزِ حکمرانی اور پارٹی نظم و ضبط ایک مثال بن چکا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ویژن کے مطابق پارٹی کو نچلی سطح تک مضبوط کرنے، کارکنوں کو متحرک رکھنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا، مرکزی صدرِ انصاف لائرز فورم انتظار حسین پنجوتھہ ایڈووکیٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ایک نظریاتی جماعت ہے اور عمران خان کے نظریے کے مطابق ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے پارٹی کو ہر سطح پر منظم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے پنجاب میں پارٹی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کے لیے کارکنوں کے کردار کو کلیدی قرار دیا۔ ملاقات میں مستقبل میں باہمی رابطے اور سیاسی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔