پختونخوا سے آئے لوگوں نے ذہنی پستی کا اظہار کیا، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-08-16
لاہور (صباح نیوز) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سے آئے لوگوں نے ذہنی پستی کا اظہار کیا، پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا احترام کرے گی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی کو اجازت نہیں کہ میرے گھر کو آگ لگا کر کہے یہ میرا سیاسی حق ہے، پی ٹی آئی والے ہر چیز میں کہتے ہیں ہمارا لیڈر پکڑا ہوا ہے، عمران خان پر انتہائی نوعیت کے کیسز ہیں، عمران خان پردرج مقدمات کو جرائم کے عام کیسز کے ساتھ ملایا نہیں جاسکتا۔
لاہور: اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اسمبلی میں پیش واقعے سے متعلق میڈیا کو آگاہ کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔